سفر آخرت — Page 41
41 حرام ہے"۔( بحر الرائق جلد دوم صفحه ۱۹۵) علاوہ ازیں مندرجہ ذیل واقعات احترام میت کی ضرورت پر کھلی روشنی ڈالتے ہیں۔مرَّ على رسول الله الله بجنازة فقام فقيل له انه یهودی فقال لیست نفساً (سنن نسائی - کتاب الجنائز باب القيام الجنازة ابل الشرقي ) کہ ایک دفعہ حضور ﷺ تشریف فرما تھے کہ ایک جنازہ گذرا آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے کسی نے کہا یہ تو یہودی کا جنازہ ہے آپ نے فرمایا کیا ہوا انسان تو ہے گویا انسانیت کا احترام آپ کو اس حد تک تھا کہ آپ کسی جنازے کے ۲۔احترام کے لئے بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔جنگ احزاب میں ایک کافر سردار خندق میں گر کر ہلاک ہو گیا اور نعش پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا کفار نے پیشکش کی کہ دس ہزار درہم لے لیں اور یہ نعش ان کے حوالے کر دی جائے۔آپ نے فرمایا ہم مردہ فروش نہیں ہم اس کی دیت نہیں لیں گے اور پھر بلا معاوضہ اس نعش کو واپس کر دیا۔( شرح الواہب اللد ينة لزرقانی جلد دوم صفحه ۱۴) اسی طرح حضور ﷺ کا یہ طرز عمل تھا کہ اگر میدان جنگ میں یا اس قسم کے حالات میں آپ کو کوئی نعش پڑی ملتی تو آپ اس کی تدفین کا حکم دیتے اور اسے اپنی نگرانی میں دفن کراتے اور سی کا پوچھتے کہ یہ مومن کی نعش ہے یا کافر کی۔( السيرة الجليله جلد ۲ صفحہ ۱۹۰) حضور ﷺ کا حکم تھا کہ کسی مخالف کی نعش کا مثلہ نہ کیا جائے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو وحشت مذہب سے دور لوگوں میں پائی جاتی ہے آنحضور مسلمانوں میں اس کو مٹانا چاہتے تھے اور سب کو تہذیب کے دائرے میں رکھنا آپ کا