سفر آخرت

by Other Authors

Page 40 of 84

سفر آخرت — Page 40

40 "لا تسبو الأموات فانهم قد افضوا إلى ماقد موا (المستدرک، کتاب الجنائز باب النهی عن سب الميت ) یعنی تم وفات یافتہ لوگوں کو برا بھلا نہ کہو۔ان سے برا سلوک نہ کرو کیونکہ وہ اپنے خدا کے حضور پہنچ چکے ہیں۔خدا تعالیٰ جیسا چاہے گا ان سے سلوک کرے گا تمہارے برا بھلا کہنے سے ان کا کچھ نہ بگڑے گا تم صرف اپنی زبان ہی گندی کرو گے۔اسی طرح حضرت عمرہ بنت عبد الرحمن بیان کرتی ہیں کہ لَعَنَ رسول الله الله الله المختفى والمختفية یعنی نباش القبور (موطا امام مالک جنائز باب ماجاء فی الاختفاء وهو النباش) کہ حضور علی اللہ نے قبروں کو بد نیتی اور بے حرمتی کے طور پر اکھیڑ نے والوں پر لعنت بھیگی ہے۔اسی طرح ابو داؤد کی روایت میں ہے کہ جو شخص کسی مردے کی قبر بد نیتی سے اکھیڑتا ہے تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے کیونکہ وہ ایک میت کے گھر میں داخل ہوا (ابوداؤ د کتاب الحدود وباب في قطع النباش) ہے۔فقہاء نے بھی وضاحت کی ہے کہ مردوں کی بے حرمتی نہ کی جائے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں چنانچہ فقہ کی مشہور کتاب بحر الرائق میں لکھا ہے کہ اگر قبر تنگی ہو جائے اور اس میں یہودی کی ہڈیاں نظر آرہی ہوں تو ان کی بے حرمتی نہ کی جائے کیونکہ ان ہڈیوں کی بے حرمتی بھی وہی ہے جو مسلمانوں کی ہڈیوں کی ہے نیز جب زندگی میں ان سے ظالمانہ سلوک کرنا اور ان کی بے حرمتی کرنا منع ہے تو ان کی وفات کے بعد بطریق اولی یہ ممانعت قائم ہے۔تو ہین کی غرض سے قبر اکھیڑنا