سفر آخرت — Page 38
38 کسی دوسرے میں۔قبر تیار کرنے والوں نے اس خیال سے کہ نعش مبارک چونکہ صندوق میں آئی ہے دفن بھی ضرور صندوق میں کی جائے گی قبر ایسے طریق پر کھدوائی جس میں صندوق اتارا جا سکے اور لحد نہ بنائی حضور کا جسد اطہر بغیر کسی تابوت ،صندوق یا بکس کے صرف کفن میں لپٹا ہوا قبر میں اتارا گیا جس کے فرش پر کچھ ریت بچھا دی گئی تھی قبر کے گڑھے کے اندراینٹ کی دیواروں پر لاہور سے آئے ہوئے بکس کے تخت ڈال کر چھت دیا گیا تھا اور ان کے اوپر کچی اینٹوں کی ڈاٹ لگادی گئی تھی پھر اس ڈاٹ کے اوپر مٹی ڈلوائی گئی مکرم قاضی عبد الکریم صاحب جو اس وقت اس کام پر مامور تھے اُن کی خواہش اور تجویز تھی کہ تختوں کے امر پر ڈاٹ پختہ اینٹوں کی بنائی جائے تاکہ قبر بیٹھ جانے کا اندیشہ نہ رہے مگر حضرت خلیفہ امسیح الاول نے اس کی اجازت نہ دی۔روز نامہ الفضل ۶ار جولائی ۱۹۴۴ء گده ۴۰۔تدفین کے بعد نعش ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانا میت اگر ایک جگہ دن ہو اور ضرورت کی بناء پر اُسے دوسری جگہ یا دوسرے ملک میں منتقل کرنا ہو تو اس میں کوئی شرعی روک نہیں ہے اصل مقصد میت کی توقیر ہے اگر نعش نکالنے کا مقصد اس کی تحقیر نہ ہو بلکہ کوئی مفید اور مسلم غرض ہو تو لش کو قبر سے نکالا جا سکتا ہے خصوصاً جبکہ وہ بکس میں محفوظ ہو۔ضرورت اور مصلحت کا فیصلہ مسلمانوں کے مرکزی نظام یا مقامی تنظیم کو کرنا چاہئے اصل مقصد بو سے بچنا ہے اگر بو نہیں تو عرصہ کی تعیین کے بغیر بھی بکس نکالا جا سکتا ہے عرصہ اور مدت کوئی شرعی مسئلہ نہیں بلکہ اندازہ اور تجربہ کی بناء پر چھ ماہ یا سال کی مدت بتائی جاتی ہے کہ اس عرصے میں بالعموم پوختم ہو جاتی ہے اور نعش خشک ہو جاتی ہے۔سابقہ فقہاء کی آراء اور بعض واقعات كَانَ رَسُولُ الله الله يَرْخُصُ فِي نَقْلِ الْمَيِّتِ