سفر آخرت — Page 39
39 وَ نَبْشِ قَبْرِهِ لِمَصْلِحَةِ مَاتَ سَعْدُبُنِ أَبِى وَقَاصٍ وَسَعِيدُ بْنِ زَيْدٍ بِقَصْرِهِمَا بِالْعَتِبْقِ فَحُمِلَا إِلَى الْمَدِينَةِ وَدُفِنَا بِهَا۔حضرت سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید عتیق میں وفات پاگئے انکی نعش مدینہ لائی گئیں اور وہاں تدفین ہوئی۔تُوَفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بِالحَبْشِهِ (اسمُ مَكَانٍ) فَحُمِلَ إِلَى مَكَّةَ وَ دُفِن بِهَا حضرت عبداللہ بن ابی بکر حبشہ میں وفات پاگئے ان کی نعش کو مکہ لایا گیا اور تدفین ( کشف الغمه صفحه / ۳۰۸ باب في نقل المیت ) ہوئی۔۴۔حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی نعشیں مصر سے منتقل کر کے فلسطین لائی گئیں۔(۱) طبری الجز ء اول تاریخ الام و الملوک صفحه ۱۸۷-۲۱۲ (ب) البدایہ والنہایہ صفحه ۲۲۰/۱ ( ج ) رد المختار صفحه ۱ / ۸۴۰ ۵۔تابوت کے جواز کے بارے میں مندرجہ ذیل سند قابل مطالعہ ہے :- (1) لا بأسَ بِاتِّخَاذِ التَّابُوَتِ وَلَوْ بِحَجْرٍ أَوْ حَدِيدٍ عِندَ الْحَاجَةِ كَرَ خَاوَةِ الْأَرْضِ (ب) إِسْتَحْسَن مَشَائِخُنَا إِتِّخَاذِ التَّابُوتِ لِلنِّسَاءِ وَلَوْ لَمْ تَكُنِ الْأَرْضِ رَخْوَةٌ فَإِنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى السَّتْرِ وَالتَحَرُّرِ مَن سَيْهَا عِنْدَ الْوَضْعِ فِي الْقَبْرِ۔دین حق میں میت کا احترام آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں :- ردالمختار صفحه ۱ / ۸۳۶