سفر آخرت

by Other Authors

Page 36 of 84

سفر آخرت — Page 36

36 نا پسندیدہ ہے لیکن اگر نمازی مسجد میں ہوں اور میت مسجد سے باہر ہو تو یہ جائز ہے اور ( کتاب الفقه علی المذاہب الاربعہ صفحہ ۱/ ۵۲۷) مکروہ نہیں ہے۔۳۷۔قبر کی تیاری اور انداز تدفین جب جنازہ قبرستان لے جایا جائے سب ساتھ جانے والوں کو باری باری کندھا دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔قبر لحد والی یا شق دار دونوں طرح جائز ہے البتہ میت کی حفاظت کے پیش نظر کشادہ اور گہری ہونی چاہیے بصورت مجبوری ایک قبر میں کئی میتیں بھی دفن کی جاسکتی ہیں اگر میت امامتنا دفن کرنا ہو یا زمین سخت سیلا بہ ہو تو میت کی حفاظت کے مد نظر لکڑی یا لوہے کے صندوق میں دفن کر سکتے ہیں۔(رد المختار صفحه ۸۳۶ جلد اول حاشیه ) میت کو احتیاط کے ساتھ قبر میں اتارتے وقت بِسْمِ اللَّهِ عَلَى مِلَّةِ رَسُول اللہ سلیم اللہ کے الفاظ کہے جائیں۔(ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ما جاء في ادخال الميت القبر صفحہ 11) لیٹی ہوئی چادر کا بند کھول کر میت کا منہ ذرا قبلہ کی طرف جھکا دیا جائے کچھ اینٹیں یا چوڑے پتھر رکھ کر لحد بند کر دی جائے اور اوپر مٹی ڈال دی جائے ہر حاضر کو مٹی ڈالنے میں کچھ نہ کچھ حصہ لینا چاہئے اور نہیں تو دونوں ہاتھوں سے تین مٹھی مٹی ڈالے اور ساتھ یہ آیت کریمہ پڑھے۔مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيْهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخرى ترجمہ : ہم نے اسی (زمین) سے تم کو پیدا کیا ہے۔اور اسی میں تم کو لوٹا دیں گے اور اس میں سے تم کو دوسری دفعہ نکالیں گے۔( سورة طه آیت ۵۶) قبر کو سطح اور کو ہان دار بنانا مسنون ہے قبر تیار ہونے پر مختصری دعائے مغفرت کی جائے۔اس کے بعد اَلسّلامُ وعَلَيْكُم وَإِنَّا إِنْشَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ کہتے