سفر آخرت

by Other Authors

Page 27 of 84

سفر آخرت — Page 27

27 ۲۳۔نماز جنازہ میں چار سے زیادہ تکبیریں مسلم ترمذی ابوداؤد کی حدیث ہے کہ !۔(1) كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعاً وَإِنَّهُ كَبَّرَ خَمْسًا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ الله له يُكَبِّرُها - ( ابو داؤد ابواب الجنائز باب التكبير على الجنازة صفر ٢-١٠٠) ترجمہ : یعنی زید بن ارقم نے ایک جنازہ پڑھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہیں جب پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ بھی کبھی کبھی ) اس طرح چار سے زائد تکبیریں کہا کرتے تھے۔(الف) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ عَلِيَّ إِنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ سِلًّا وَعَلَى الصَّحَابَةِ خَمْسًا وَعَلَى سَائِرِ النَّاسِ أَرْبَعًا - ابن منذر بحوالہ نیل الاوطار صفحه ۵۸/۴) (ب) عَنْ عَلِيٌّ إِنَّهُ كَبَّرَ عَلَى سَهْلِ بَنِ حُنَيْفٍ سِنًّا وَقَالَ إِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا - ( بخاری کتاب المغازی صفحه ۵۷۱/۲ ونیل الاوطار صفحه ۵۹/۴ ) یعنی ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بدر کے صحابہ کے جنازہ میں چھ دوسرے صحابہ کے جنازہ میں پانچ اور عام لوگوں کے جنازہ میں چار تکبیریں کہا کر تے تھے۔بخاری میں بھی اسی مضمون کی حدیث آئی ہے کہ حضرت علی نے ایک بدری صحابی سہل بن حنیف کے جنازہ پر چھ تکبیریں کہیں۔پس ان احادیث سے چار سے زائد تکبیرات کا جواز ثابت ہے گو عام دستور