سفر آخرت — Page 28
28 چار تکبیر میں کہنے کا ہے۔( فقه احمدیہ صفحہ ۲۴۷ - ۲۴۸ ) جنگ میں بہت سے فوجیوں کی شہادت اور ریزہ ریزہ ہو جانے کی صورت میں نماز جنازہ اور قبر کے بارے میں حکم جنگ میں بسا اوقات بمباری وغیرہ سے انسانی اعضاء کے بکھر جانے کی وجہ سے نعش نا قابل شناخت ہوتی ہیں اُن کے لئے حکم ہے کہ ایک ہی جگہ نعشوں کے بچے کھچے حصوں کو جمع کر کے اکھٹے جنازہ پڑھا جائے اور ایک قبر میں دفن کر دیا جائے اس میں کچھ حرج نہیں اُحد کی جنگ میں ایک قبر میں کئی کئی شہدا کو دفن کیا گیا تھا۔( ترمذی بات قتل احد و ذکر حمزه صفحه ۱-۱۲۱ (فقه احمد یه صفحه ۲۴۸)) ۲۵۔جنازہ جب جائے تو تعظیماً کھڑے ہو جانا چاہئے آنحضور علہ جب جنازہ جاتا تو کھڑے ہو جاتے آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ جنازہ جاتا ہو تو س کے ساتھ جاؤ ورنہ کم از کم کھڑے ہو جاؤ اور اس وقت تک کھڑے رہو کہ جنازہ سامنے سے نکل جائے۔-۲۶۔جنازہ اُٹھاتے وقت میت کا سر کس طرف ہونا چاہئے جنازہ کو قبرستان لے جانا اور اس کی تدفین میں حصہ لینا ایک شرعی ہدایت ہے اور شرعی ہدایت کی بنیا د قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر ہے ہم اپنے قیاس یا خود ساختہ حکمت سے کسی امر یا طریق کا رکو شرعی نہیں قرار دے سکتے۔جنازہ لے جاتے وقت میت کا سرکس طرف اور پاؤں کس طرف ہونے چاہئیں طبعی طریق جسے سنت عمل اور اُمت کے تعامل نے واضح کیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے عملاً تصدیق فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ میت کا سر اُدھر ہونا چاہئے جدھر جنازہ لے جایا جارہا ہے اور حکمت دینی کا تقاضہ بھی یہی ہے۔فقہ کی کتابوں میں جنازہ اُٹھانے کا جو طریق لکھا ہے وہ یہ ہے۔