سفر یورپ 1924ء — Page 43
۴۳ ذریعہ سے اور یروشلم کے نیو گرانڈ ہوٹل میں فروکش ہوئے۔تھوڑی دیر بعد سامان بھی اور ہم دونوں بھی ہوٹل میں حاضر ہو گئے۔کھانا بازار سے خریدا گیا۔کھانے سے فارغ ہو کر حضور نے نمازیں پڑھائیں اور پھر حضور موٹر کے ذریعہ سے ابوالانبیاء حضرت ابراہیم کی قبر پر تشریف لے گئے جو اس جگہ سے ۲۵ میل کے فاصلہ پر واقع ہے جہاں حضرت اسحاق - حضرت سیدہ سارہ - حضرت اسحاق کی بیویوں کی اور حضرت یعقوب - حضرت یوسف کی قبور بھی ہیں ایک ہی احاطہ میں اور وہاں مسجد بھی ہے۔اس جگہ پر صرف مسلمان جاسکتے ہیں۔یہودی اور نصرانی نہیں جاسکتے۔بیت الم : یروشلم سے ۹ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔وہاں بھی حضور ٹھہرے تھے۔وہاں دنیا میں سب سے زیادہ پرانا گر جا ہے۔حضور کے ساتھ صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ۔خان صاحب - چوہدری فتح محمد خان صاحب۔چوہدری محمد شریف صاحب - حافظ صاحب اور شیخ صاحب عرفانی تھے۔حضور نے حضرت ابراہیم کے مقبرہ پر لمبی دعائیں کیں اور حضرت اسحاق کے مقبرہ پر بھی۔پھر حضرت اسحاق کی دونوں بیویوں کے مقبرہ پر اور حضرت یوسف اور حضرت یعقوب کے مقبرہ پر بھی الگ الگ دعائیں کیں۔جہاں سے حضور شام کی نماز کے بعد پھر واپس پہنچے۔نمازیں ادا کیں اور کھانا کھانے کے بعد آرام فرمایا۔یہ تو ہوئی یکم اگست ۱۹۲۴ء بروز جمعہ کی کارروائی۔نماز جمعہ نہیں ہوئی نماز ظہر و عصر جمع ہوئیں۔دو تار قادیان سے خیریت حالات کے آئے۔ایک میں بھیرہ کے بلوہ کی تفاصیل تھیں دوسرا حضرت نواب صاحب قبلہ کے متعلق پرائیویٹ تھا۔۲ / اگست ۱۹۲۴ ء ہفتہ : صبح کی نماز حضور نے خود پڑھائی۔حضور کو آج کچھ پیچش کی شکایت ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ کل صبح اور شام کا کھانا بازار سے منگا کر تناول فرمایا تھا اور اس میں اس ملک کے رواج کے مطابق ترشی بہت زیادہ تھی۔گوشت اس جگہ ڈیڑھ روپیہ فی سیر ہے۔سوڈا واٹر کی کھاری بوتل ہوٹل میں سے چوہدری فتح محمد خان صاحب نے لی اور دس آنے چارج کئے ہیں۔دودھ زیادہ گراں نہیں۔پنیر روزانہ تازہ ملتا ہے۔خربوزہ ، تربوز، سیب اور انگور بکثرت ہیں مگر خربوزہ میٹھا نہیں اور گراں ہے۔انگور ابھی