سفر یورپ 1924ء — Page 44
۴۴ پورے پکے نہیں مگر ارزاں ہیں۔بادام اس علاقہ میں بہت عمدہ اور سستے ملتے ہیں۔ڈبل روٹی وغیرہ کے ناشتہ کی بجائے اگر بادام کا ناشتہ کیا جاوے تو ارزاں اور مفید تر ہوگا۔دو روپے کے قریب قیمت پر ایک سیر عمدہ قسم کے بادام کا مغز ملتا ہے اور ان میں سے ایک بھی کروایا کسیلا نہیں۔موسم میں پہاڑی رنگ ہے۔نہایت صاف ہوا رات کو ٹھنڈی ایسی کہ کمرے کے اندر بھی کچھ اوڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔دن کی دھوپ میں ابھی کچھ تیزی ہے مگر نہ ایسی کہ برداشت ہی نہ ہو بلکہ ایسی ہے کہ گرمی معلوم نہیں ہوتی ہمارے ہاں کے اکتوبر بلکہ نومبر کے ابتدا کا سا موسم ہے۔ہوٹل والے نے فی کس یومیہ ۳ بیا سٹر یعنی قریباً چار روپے گیارہ آنے فی کس چارج کئے ہیں خالی رہنے کے۔سادہ نسل کے لئے دولوٹے پانی ساڑھے بارہ آنے میں۔اگر پانی گرم کرانا ہو تو ایک روپیہ فی کس سے بھی زیادہ - ایک بوٹ کی معمولی پالش اڑھائی آنے میں ہوتی ہے۔ایک بیاسٹر ) سکہ اس جگہ مصر کا چلتا ہے۔ایک جنی ( گئی ) ۱۰۰ پیا سٹر یا بیا سٹر اور بیاسٹر ہمارے ملک کے٫۰۲ کے قریب ہوتا ہے۔بیا سٹر کوٹر ش ، قرش ، عرش ، عش ، غرش اتنے الفاظ میں بولتے ہیں۔نصف بیاسٹر ( پیاسٹر ) کو تعریفہ کہتے ہیں اور وہ پانچ پیسے ہمارے ملک کے برابر ہوتا ہے اس پر انگریزی میں پانچ لکھا ہوتا ہے مگر اس کے اندر سوراخ ہوتا ہے۔پانچ کا ہندسہ پانچ بیا سٹر پر بھی لکھا ہوتا ہے مگر اس میں سوراخ نہیں ہوتا اور وہ بڑا ہوتا ہے۔ایک پیسہ کو ملین کہتے ہیں۔دس بیا سٹر اور پانچ بیا سٹر چاندی کے بھی ہیں اور زنکل کے بھی۔چاندی کے چھوٹے اور نکل کے بڑے۔حرم بیت المقدس : حضور نے کل صبح صرف ایک پیالی قہوہ سے ناشتہ فرمایا کچھ پیچش کی تکلیف تھی۔9 بجے کے قریب حضور حرم شریف کی زیارت کے لئے تشریف لے گئے یعنی جس مقام کے نام بیت المقدس ، یروشلم ، القدس ، قدس ہیں اس مقام کو یہاں حرم شریف کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ایک بڑے وسیع احاطہ کے بیچوں بیچ ایک گول گنبد کی بلند بالا عمارت جس کے چاروں طرف کئی دروازے اور جالی دار جھرو کے ہیں کھڑی ہے۔اولاً حضور اس عمارت کے باہر کھڑے ہوئے خدام ہمرکاب ساتھ تھے۔البتہ ذوالفقار علی خان صاحب چونکہ گورنمنٹ ہاؤس میں ایک ضروری کام کو گئے تھے اور چوہدری فتح محمد خان صاحب بوجہ علالت طبع شریک نہ ہو سکے۔صاحبزادہ