سفر یورپ 1924ء — Page 500
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسلسله خط نمبر ۳۰۲ جہاز سے اتر کر سید نا حضرت خلیفة المسیح خانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز ایک موٹر کے ذریعہ عدن چھاؤنی سے عدن شہر تشریف لے گئے - خرید وفروخت کے مقامات پر نیگر وعرب سیاہ فام یالے بالوں والے لڑکے اپنی اپنی زنبیل لئے موجود رہتے ہیں تا کہ مسافر اگر کوئی سامان خریدے تو اسے موٹر وغیرہ تک پہنچا دیں۔اس طرح ان کو کچھ مل جاتا ہے۔جب حضور کا موٹر ایک مارکیٹ کے دروازہ پر پہنچا تو بیسیوں ایسے لڑکے حضور کے گرد جمع ہو گئے۔حضور نے دو تین کو ساتھ لے لیا اور ان کی خاطر پھل خریدے۔جن کو اُٹھا کر مزدوری کے حقدار ہوئے۔حضور نے مزدوری کے علاوہ بطور خیرات بھی انہیں دیا۔جس کی وجہ سے اور لڑ کے بھی اکٹھے ہو گئے۔بعض نے حضور کے ہاتھ پکڑے بعض نے کپڑے کھینچے۔حضور نے دوسرے لڑکوں کو بھی خیرات دی۔قصبه شیخ سلیمان : شہر کو دیکھ کر حضور شیخ سلیمان قصبہ کی طرف تشریف لے گئے جو عدن سے ہیں میل کے فاصلہ پر واقع ہے مگر موٹر ڈرائیور نے راستہ میں کسی اور آبادی کو کہہ دیا کہ شیخ سلیمان ہے گو حضور نے سمجھ لیا کہ یہ وہ مقام نہیں کیونکہ حضور نے جو حالات شیخ سلیمان کے متعلق مطالعہ فرمائے تھے وہ اس جگہ موجود نہ تھے مگر چونکہ واپسی کے واسطے جلدی تھی اور وہ خاص مقام ابھی اس جگہ سے قریب آٹھ میل اور دور تھا اس لئے حضور نے واپسی کا ارادہ فرمالیا اور وہاں سے سید ھے جہاز میں تشریف لے آئے۔بندرگاہ عدن : عدن بندرگاہ سمندر کے کنارے ایک بالکل خشک اورنگی پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے اور قصبہ عدن بندر سے چار میل کے فاصلہ پر ہے۔موٹر اور موٹر لاریوں کے استعمال کی یہاں بہت ہی کثرت ہے۔بالکل معمولی بازار ہیں۔اکثر یہودی اور پارسی تاجر ہیں۔مسلمان بھی ہیں مگر کم۔مسلمانوں کی حالت گری ہوئی ہے۔اکثر مزدوری پیشہ اور چھوٹے درجہ کے نظر آتے ہیں۔کھجور مختلف اقسام، تربوز، انار اور بادام سبز یہاں عام طور پر ملتے ہیں۔عدن کے قصبہ میں موٹروں