سفر یورپ 1924ء — Page 453
۴۵۳ ایک کرنل صاحب سے حضور کی ملاقات ہوئی۔حضور سے مانوس ہوا اور فرنٹئیر کے متعلق اپنے خیالات اور سکیم سناتا رہا اور حضور سے بھی اس کے متعلق رائے معلوم کرتا رہا۔جب حضور نے اپنی سکیم سنائی تو متعجب ہوا اور کہا کہ میں آپ کی باتوں اور آپ کے خیالات سے بہت ہی متاثر اور انٹریسٹیڈ (Interested) ہوا ہوں۔آپ دوبارہ کسی وقت مجھے اپنی سکیم سنائیں۔میں تو متواتر پندرہ سال سے اس معاملہ پر غور کر ہا ہوں ابھی تک کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکا۔نماز ظہر و عصر حضور نے خود جمع کر کے پڑھائیں۔آج چونکہ ہمارا جہاز جدہ سے آگے نکل آیا ہے لہذا نماز کا رخ شمال مشرق کو تبدیل کر لیا گیا ہے۔حضور اب چبوترہ پر تشریف فرما ہیں اور مختلف اذکار شروع ہیں۔گرمی ابھی زور پر ہے۔حضور نے بھی آج تو نماز کے بعد کوٹ اُتار کر رکھ دیا۔ہمارے جہاز کی رفتار سے خطرہ ہے کہ شاید ۱۷ رکو نہ پہنچ سکے۔۲۴ گھنٹہ گزشتہ میں ۳۰۷ میل چلا ہے اور اس طرح عدن ۱۲ ء کی شام کو پہنچنے کی امید کی جاتی ہے۔حضور ۲ بجے کے بعد نمازیں ادا کر کے بیٹھے۔پونے پانچ بجے تک بیٹھے رہے۔گفتگو کا زیادہ حصہ بعض قوموں کی تحقیق کے متعلق تھا۔خصوصاً جاٹ اور راجپوت کا ذکر کثرت سے رہا اور ان میں تبلیغ کے ذرائع تجاویز کا سلسلہ جاری رہا۔شام اور عشاء کی نمازیں حضور نے خود پڑھا ئیں اور پھر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔کھانے کے بعد ایک مرتبہ تشریف لائے مگر کوئی نیچے نہ تھا۔اوپر تشریف لے جا کر تنہا ٹہلتے رہے۔یہ یادر ہے کہ اس طرح کی تنہائی حضور کی بے معنی نہیں ہوا کرتی خاص الخاص دعا ئیں ہوا کرتی ہیں یا پھر کوئی سکیم تبلیغ زیر غور اور یا پھر بعض گہرے اور دقیق علمی وروحانی علوم پر فکر اور سوچ و بچار۔لہذا عارف لوگ اس حالت میں مخل ہونے سے ہمیشہ ہی بچتے اور رُکتے رہتے ہیں۔۱۱ / نومبر ۱۹۲۴ء : آج صبح کی نماز میں حضور تشریف لائے سر میں شدید درد کی تکلیف ہے۔تھرما میٹر بھی لگایا بخار تو نہیں ہے۔ڈاکٹر صاحب نے دوائی پلائی۔حضور نے ناشتہ کا حکم دیا ہے ناشتہ اسی جگہ فرمایا اور ایک بجے کے بھی بعد تک حضور تشریف فرما ر ہے ہیں۔سلسله گفتگو مختلف امور کے متعلق جاری رہا ہے۔کرنل صاحب جن کا ذکر کل کے حصہ خط