سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 433 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 433

۴۳۳ (1) پھر ایسی کچھ نہیں پرواہ دکھ ہو یا کہ راحت ہو رہو دل میں مرے گر عمر بھر تم مدعا ہو کر (۷) مری حالت یہ جاناں رحم آئے گا نہ کیا تم کو اکیلا چھوڑ دو گے مجھ کو کیا گے مجھ کو کیا تم با وفا ہو کر (۸) کہاں ہیں مانی و بہزاد دیکھیں فن احمد کو دکھایا کیسی خوبی مثیل مصطفی ہو کر - حضور نمازوں کے بعد اُٹھ کر تشریف لے گئے اور جہاز میں ادھر ادھر ٹہلتے پھرتے رہے۔کبھی اپنے کمرہ کی طرف تشریف لے جاتے کبھی ہمارے چبوترہ کی طرف تشریف لے آتے۔مولوی صاحب کو کبھی کوئی دوست کھینچ کر لے جاتا کبھی کوئی۔جہاز کی روانگی کا وقت قریب ہونے لگا۔حضرت میاں صاحب نے جہاز کے اوپر کے حصہ میں جا کر مولوی صاحب کو اپنے ساتھ کھڑا کر کے ایک فوٹو لیا۔جدائی کی گھڑی کٹھن نظر آ رہی تھی جس کا بہت گہرا اثر ہر دل و دماغ پر بحصہ رسدی تھا۔سات بجے شام کا وصل ہو گیا۔ساڑھے سات کا بھی وصل ہو گیا اور حضور مولوی صاحب کو رخصت کرنے کے لئے سیڑھی کی طرف تشریف لے گئے۔سیڑھی ابھی لگی ہوئی تھی۔مولوی صاحب ایک ایک کو گلے لگا کر ملتے گئے۔دل اداس تھا انہوں نے ضبط کیا گو ہم سے اکثر سے ضبط بھی نہ ہوسکا۔جدائی کی گھڑی رخصت کا وقت اپنے دوستوں اور پیاروں کی جدائی نہیں عزیزوں یا رشتہ داروں سے علیحد گی نہیں بلکہ اس مہربان شفیق اور ماں سے زیادہ پیار کرنے والے محسن انسان سے علیحدگی کا وقت دل ہی اس نقشہ کا اندازہ کر سکتے ہیں لفظوں میں نہیں ادا کیا جا سکتا - آخر مولوی صاحب پر بھی رقت طاری ہوئی مگر پھر بھی ضبط کیا۔انگریز مرد اور عورتیں اور کئی دیسی جنٹلمین اس رقت آمیز نظارہ کو دیکھتے رہے۔جب مولوی صاحب سب سے مل چکے تو حضور نے ان کو گلے لگالیا اور دیر تک چھاتی سے لگائے رکھا۔ہونٹ حضور کے ہلنے کی بجائے پھڑ پھڑا رہے تھے اور یہ منظر ہر دل گردہ رکھنے والے پر ایک کپکپی کا عالم طاری کر رہا تھا۔حضور نے پہلے تختہ جہاز پر جب کہ تمام دوست جمع ہو گئے مولوی صاحب کو رخصت کرنے کی دعا کی اور بعد میں ان کو دوستوں سے مل لینے کی اجازت دی۔حضرت اقدس سے