سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 434 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 434

۴۳۴ معالقہ سے فارغ ہوکر مولوی صاحب نے حضور کی دست بوسی کی اور لمبی کی اور پھر حضور سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔ان کا کمبل اور ایک کتاب میرے پاس تھا مگر مجھ سے آگے شیخ صاحب مصری کھڑے تھے۔مولوی صاحب نے وہ کمبل لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔حضور نے سمجھا کہ وہ اب پھر کسی سے مصافحہ کرتے ہیں۔اس خیال سے حضور نے منع فرمایا اور حکم دیا کہ اب کسی سے مصافحہ نہ کریں۔غرض یہ تھی کہ حضرت اقدس کے مصافحہ اور دعا کے بعد پھر کسی اور سے مصافحہ نہ کریں۔(سبق) میں نے حضرت اقدس سے اجازت چاہی کہ مولوی صاحب کو نیچے تک جا کر رخصت کر آئیں۔حضور نے اجازت دی اور دوسرے بعض دوست بھی نیچے تک جا کر ان کو ارض یورپ پر رخصت کر کے واپس جہاز میں آگئے۔مولوی صاحب چاہتے تھے کہ وہ جہاز کی روانگی تک وہیں کھڑے رہیں مگر ہمارے یہ کہنے سے کہ حضور جب رخصت کر چکے ہیں آپ کو ابھی سٹیشن کی طرف چلے جانا چاہئے وہ بختم درد بنے ہوئے رخصت ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کی کفالت و وکالت اور دلجوئی بھی وہ خود آپ ہی کیا کرے آمین۔حضور تختہ جہاز پر اسی جگہ کھڑے رہے جہاں سے مولوی صاحب کو رخصت فرمایا اور دیر تک اس راہ کی طرف دیکھتے ہوئے دعائیں کرتے رہے جدھر کو مولوی صاحب گئے تھے۔قریباً پندرہ منٹ بعد وہاں سے ہٹ آئے اور کھانے کے میز پر تشریف لے گئے۔کھانے کے بعد حضور پھر ہمارے قیام گاہ پر تشریف لائے اور کچھ دیر تک ٹہلتے پھرتے رہے اور بعض باتیں کرتے رہے۔وہ دوست جو سیکنڈ میں ہیں ان سے ہم لوگ ڈیک پسنجر اچھے رہے کیونکہ حضور نماز ہمارے پاس ادا کراتے ہیں بیٹھتے اور مجلس بھی یہاں لگاتے ہیں اور ٹہلنا ہو تو بھی یہیں تشریف لاتے ہیں۔فالحمد للہ۔ذرہ نوازی ہو تو ایسی۔زہے شرف وسعادت۔۳ / نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز حضور نے خود تشریف لا کر پڑھائی اور کھڑے ہو کر پڑھائی اور نماز کے بعد ٹھہر گئے حتی کہ ناشتہ بھی اسی جگہ تناول فرمایا اور مجلس دو تین گھنٹے تک لگی رہی۔قادیان کی یاد اور مختلف دوستوں کے اذکار ہوتے رہے۔مختلف اذکار تھے۔مقبرہ بہشتی کا بھی ذکر خیر آیا اور کسی قدر لمبا ذکر ہوا۔بچوں کی تدفین - باغ مقبرہ کے پھل پھول کی فروخت۔ان پھلوں کی چوری کی وارداتوں کی جگر خراش خبریں ان پر حضور کی ناپسندیدگی کا اظہار اور آخر یہ تجویز کہ ارادہ ہے کہ