سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 432 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 432

۴۳۲ قیامگاہ مل گیا ہے جہاں ہم جاتی دفعہ پورٹ سعید سے برنڈ زی تک اسی جہاز میں رہے تھے مگر پہلے نصف حصہ تھا اب کے پورا چبوتر مل گیا ہے اور اور بھی کئی قسم کی سہولت اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دی ہے اور وہیں تشریف فرما ہو گئے۔مولوی عبد الرحیم صاحب درد سے ان کی نوٹ بک لے کر کچھ دیکھا جہاں حضور نے ہدایات ان کے واسطے لکھی تھیں اور پھر حضور نے کچھ خوشبو مولوی صاحب کو تحفہ دی اور ساتھ ہی وہ حدیث پڑھی جس میں آنحضرت علی اللہ نے خوشبو اور دوسری چیزوں سے پسندیدگی کا ذکر فرمایا ہے۔مولوی صاحب اس تحفہ کے حصول پر جس قدر بھی ناز اور فخر کریں ان کا حق ہے۔ہم نے بھی مبارک باد کا تحفہ پیش کیا اور بھی بعض ہدایات حضور دیتے رہے۔ریویو انگریزی کے متعلق اور بعض دوسرے تبلیغی کاموں کے متعلق اور غروب آفتاب کے بعد حضور نے ایک نظم مولوی صاحب کو دے کر فر مایا کہ پڑھیں چنانچہ مولوی صاحب نے اور ڈاکٹر صاحب دونوں نے مل کر وہ نظم ایک مرتبہ سنائی۔پھر حضور نے دوبارہ پڑھنے کا حکم دیا۔یہ نظم حضرت اقدس نے ابھی ابھی کہی ہے۔میں بھی ہدیہ ناظرین کرتا ہوں گو خیال ہے کہ وہ ہمارے پہنچنے کے ساتھ ہی یا زیادہ سے زیادہ ایک دن پہلے پہنچے گی مگر میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اس لطف میں شریک نہ کروں۔(۱) نہیں ممکن کہ میں زندہ رہوں تم سے جدا ہو کر رہوں گا تیرے قدموں میں ہمیشہ خاک پا ہو کر (۲) جو اپنی جان سے بیزار ہو پہلے ہی اے جاناں تمہیں کیا فائدہ ہوگا بھلا اس پر خفا ہو کر (۳) ہمیشہ نفس امارہ کی باگیں تھام کر رکھیو گرا دے گا یہ سرکش ورنہ تجھ کو سیخ پا ہو کر (۴) علاج عاشق مضطر نہیں ہے کوئی دنیا میں اسے ہو گی اگر راحت میتر تو فنا ہو کر (۵) خدا شاہد ہے اس کی راہ میں مرنے کی خواہش میں مرا ہر ذرہ تن جھک رہا ہے التجا ہو کر