سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 20 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 20

غرض چار روز اسی طرح سے گزر گئے۔کھان پان کا کوئی انتظام نہ تھا۔کسی نے صرف ایک سنترہ پر گزر کیا کسی نے ایک ٹوسٹ روٹی پر دن رات بسر کر دیئے۔ایک آدھ مرتبہ میاں رحمدین نے کچھ کوشش بھی کی کہ کچھ پکائے مگر نا کام- ایک قدم اُٹھتا پھر سر پکڑ کر لیٹ جاتا تھا۔لیٹنے والے تو کھانے کی طرف راغب ہی نہ ہوتے تھے مگر میرا اب بھوک نے ناک میں دم کر لیا۔ضعف بڑھنے لگا اور میری حالت مارے بھوک کے دگرگوں ہونے لگی۔حضور کو ان حالات کا علم ہوا۔چوہدری فتح محمد خان صاحب کو کہلا بھیجا کہ دس منٹ کے اندر اندر ا نتظام کر دیں ورنہ پھر ہم خود کریں گے مگر اللہ تعالیٰ بھلا کرے چوہدری صاحب کا وہ پہلے ہی سے فکر میں تھے۔اس حکم کے پہنچتے ہی چار بریڈ (Bread) اور بٹر (Buter) لے آئے جس میں سے دو میں نے کھا کر ناشتہ کیا اور دو دوسرے دوستوں نے لقمہ لقمہ کر کے لے لئے۔سمندر میں پانچواں دن: پانچویں دن کی صبح کچھ حوصلہ افزا تھی۔دوسفید پرندے اڑتے ہوئے نظر آئے جن کو سی گل کے نام سے یاد کرتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ جانور بعض اوقات ایک سو میل سے بھی زیادہ فاصلہ تک اُڑے چلے جاتے ہیں۔ہم ان پرندوں کو دیکھ کر خوش ہوئے کہ کوئی خشکی قریب ہے مگر اس وقت جب کہ میں خط لکھ رہا ہوں برابر ۲۰ گھنٹہ جہاز کو چلتے ہو گئے ہیں کوئی خشکی نظر نہیں آئی۔جہاز ساڑھے آٹھ ناٹ (سمندری میل ) کے حساب سے چل رہا تھا مگر ابھی تک خشکی کا نام نہیں البتہ پرند سفید و سیاہ پہلے سے زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔پھر تھوڑی دیر بعد دُور سے ایک جہاز کا دھواں نظر آیا۔جہاز کا نام آنا تھا کہ تمام مسافر اور جہاز کا کل عملہ بالائی ڈیک پر جمع ہو گئے۔فرسٹ کلاس پسنجر بھی اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے لگے۔ڈور بین جن مسافروں کے پاس تھی وہ دُور بینوں سے اور باقی اپنی نظروں کی ڈور بین سے دیکھنے لگے۔کوئی ایک گھنٹہ کے بعد وہ جہاز قریب ہوا دکھائی دیا مگر مسافر نہ نظر آتے تھے۔آخر دو گھنٹہ کے بعد وہ ایسا قریب آ گیا کہ اس کا ایک فوٹو بھی لے لیا گیا۔قریباً تین گھنٹہ تک بڑی دلچسپی کے سامان رہے۔جہازوں کی دوڑ ہوئی۔ہمارا جہاز آگے نکل گیا دوسرا بہت پیچھے رہ گیا۔ایک بجے ہمارا جہاز کھانے کے واسطے تھوڑی دیر کے لئے ٹھہر گیا تو دوسرا جہاز آگے نکل گیا مگر تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ ہم نے اسے پھر پکڑ لیا اور اس سے آگے نکل گئے اور اتنے آگے نکلے کہ پھر وہ دکھائی بھی نہ دیا۔دراصل