سفر یورپ 1924ء — Page 19
۱۹ قادیان پہنچا دیا جاوے۔شب تاریک و بیم موج و گرداب چنیں حائل کجا دانند حال ما سبک ساران ساحل با مگر کسی خادم نے عرض کیا حضور ایسا شعر قادیان میں جا کر نہ معلوم کیا حالت پیدا کر دے۔بہتر یہی ہے کہ اللہ پر توکل کر کے حالت امن ہی کی اب وہاں اطلاع دی جاوے۔ایک تار پہلے جا چکا ہے اس سے نہ معلوم کیا خوف و خطر وہاں پیدا ہوا ہو گا اب اس مضمون سے اور بھی حالت نازک ہوگی۔چوتھا دن : جہاز کے سفر کے چوتھے دن جمعہ تھا مگر طوفان کا ایسا شدید زور تھا اور حالات ایسے خطر ناک تھے کہ نماز جمعہ بھی ادا نہ ہوسکی۔نماز ظہر وعصر اپنے اپنے مقام پر ملا کر ادا کی گئیں اور جو جہاں تھا اپنے حال میں پڑا دعائیں کرتا رہا۔حضور نے دوستوں کے واسطے مجموعی طور پر دعائیں بھی کیں اور حضور کے ہمرکاب غلاموں نے بھی دعاؤں میں وقت گزارا۔چوتھے دن کی چوتھی رات بھی تیسری رات سے کم خطرناک نہ تھی۔سقوطری جزیزہ قریب تھا جہاں خصوصیت سے ہوا تیز اور مند اور چکر دار ہوا کرتی ہے۔ان حالات کا نقشہ صرف وہ دوست ٹھیک طور پر کھینچ سکتے ہیں جنہوں نے طوفانی حالات میں جہازوں کے سفر کئے ہیں۔بار بارطوفان کی خطرناک حالت کا دہرانا اور اپنی تکالیف یا خدمات کا ذکر کرنا مجھے اس سے شرم آتی ہے۔خلاصہ در خلاصہ یہ ہے کہ دن بہت خطرناک تھے اور خوف وخطر در پیش تھا۔کام اور فاقہ مزید برآں یہ رات بھی اللہ کریم نے اپنے فضل سے گزار دی۔مکر می چو ہدری فتح محمد خان صاحب سیکنڈ کلاس پسنجر تھے۔ٹکٹ ود فوڈ (With Food) تھا۔کھانے کے میز پر سوائے ان کے اور تو کوئی جاتا نہ تھا۔ہل سکتا تو جاتا بھی۔سب کے لئے کچھ اُٹھا لاتے تھے جس سے جہاز کے کارکن ان کو پیٹو کہنے لگے اور کہ وہ بہت ہی بلانوش ہیں۔دوسری مشکل چوہدری صاحب کو یہ تھی کہ وہ اگر دوستوں کے نام سے کوئی چیز منگاتے ، نو کر لاتے تو یہ بزرگ کہہ دیتے کہ ہمیں ضرورت نہیں۔نہ خود کھاتے نہ تھرڈ کلاس والوں کو دیتے۔