سفر یورپ 1924ء — Page 21
۲۱ وہ ایک کارگو ( بار برداری کا جہاز ) تھا کراچی سے عدن کو جاتا تھا۔اٹالین کمپنی کا تھا۔اس وقت سے دوستوں میں حرکت کے آثار پیدا ہوئے حتی کہ ہمارے مستقل مزاج شیخ صاحب مصری نے بھی اپنی جگہ چھوڑی اور دوستوں میں بھی چہچہاہٹ شروع ہوگئی۔جہاز کے کھانا پکانے والوں سے کہہ سن کر کچھ آلو اور چاول ابلوانے کا انتظام کیا گیا جو انہوں نے اپنے مذاق کے مطابق اُبال کر دیئے۔کچھ کھائے کچھ پھینکے۔اُبلے ہوئے آلو بھائی رحمد بن صاحب نے نمک مرچ لگا کر اور لیموں نچوڑ کر اچھے چٹ پٹے بنا دیئے۔سب نے کھائے اور خوش ہوئے مگر مولوی رحیم بخش صاحب کو قے ہوگئی اور ان کی طبیعت سنبھلتی سنبھلتی پھر بگڑ گئی۔سید نا حضرت خلیفہ امسیح کی طبیعت بھی صاف ہو گئی۔حضور نے باقی آم منگائے۔اپنے ہی کمرہ میں ٹھنڈے کرائے۔اپنے واسطے رکھ کر باقی دوستوں میں تقسیم کرنے کی غرض سے باہر بھجوا دیئے اور حکم بھیجا کہ سب مل کر کھائیں۔عصر کی نماز کے بعد حضور باہر تشریف لائے۔موسمی حالت کے متعلق قادیان میں اطلاع کی غرض سے ایک لمبا تا ر اپنے دست مبارک سے اپنے نوٹ بک میں لکھا اور فرمایا کہ نیچے میرا نام لکھا جاوے۔تا رلکھا گیا جو حسب ذیل تھا :- بخدمت مولوی شیر علی صاحب قادیان After five days Constant shaking and rolling the ship is becoming steady۔The last five days experince beyond description۔Thank God now the reverest part of voyage has passed۔God willing will reach Aden Tuesday۔Khalifatulmassih رو مگر اس تار کو اول عدن جانا اور پھر عدن سے بمبئی ہوتے ہوئے قادیان پہنچنا تھا۔پچاسی پے خرچ ہوتے تھے۔دیگر تا رتھی زیادہ خوف دلانے والی اس وجہ سے روک کر دوسری تار دی گئی۔Weather improving God willing reaching Adan