سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 227 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 227

۲۲۷ سپر دفرمایا ہے اور ہدایت فرمائی ہے کہ ٹیچنگز آف اسلام کے سائز پر چھپوا یا جاوے اور مجلد کرایا جاوے۔نماز عشاء کے بعد حضور بیٹھ گئے ہیں اور ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر تک یہاں کی دکانات وغیرہ کی باتیں کرتے رہے۔فرمایا کہ ایک گھنٹہ خریدا ہے جس کی چابی ۴۰۰ دن کی ہے جس کی قیمت صرف ۲۷ روپے ہے۔سلفرج کی مشہور دکان کے حالات بیان فرماتے رہے۔۴۳ ہجری کے برکات میں سے ہی فرمایا کہ لنڈن کا سفر بھی ایک عجوبہ ہے۔آنے کا کوئی خیال نہ تھا نہ اس پیشگوئی کا خیال تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنڈن میں سفید پرندے پکڑنے کے متعلق دیکھی تھی۔پریس نے جو خدمت کی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی حتی کہ بادشاہوں کے واسطے بھی ایسا کبھی نہیں ہوا۔مسٹر گپتا آج بھی آئے اور انہوں نے حضور کے رات کے مضمون پڑھنے کا ذکر کر کے کہا کہ حضور نے جو مضمون پڑھا تھا وہ بہت ہی قابل تعریف تھا۔وہ کہتا ہے کہ میں ہی نہیں کہتا بلکہ مجھے دوسرے لوگوں نے بھی کہا تھا۔اس نے یہ بھی کہا کہ اس دن جو (البیت ) میں ایڈریس پڑھا گیا تھا اس سے بھی اچھا مضمون رات حضور نے پڑھا۔چنانچہ رات کے مضمون کی رپورٹ اس نے خود بھی اخبارات کو بھیجی ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسپرنٹو والا جو آیا تھا اس نے کہا کہ جو خدمت آپ فرما ئیں ہم کرنے کو تیار ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ان لوگوں سے ہمیں مل جانا چاہیئے۔یہ بہت ہی مفید بات ہے کیونکہ عربی تو جب پھیلے گی دیکھا جائے گا مگر یہ لوگ تو اب بھی ہمارے بنے کو تیار ہیں۔اس ذریعہ سے ہمیں ایک بنی بنائی قوم مل سکتی ہے جس کو پھر ہم اپنے مطلب کا بنالیں گے اور اپنے سانچے میں ڈھال لیں گے۔اس شخص نے حضور سے عرض کیا کہ آپ ہمیں کوئی عربی دان دیں تو اپنی زبان میں قرآن شریف کا ترجمہ کریں گے اور دوسری چیز ایسٹ اینڈ ویسٹ ایسوسی ایشن یہ دونوں ہمیں بہت پسند ہیں اگر ہمارے آدمی ہوشیاری سے کام لیں تو ان مجلسوں کے ممبر بن کر ان پر قبضہ ہی کر سکتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ اسپرنٹو والے تو آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح سے احمدی احمدی سے محبت کرتا ہے اور جہاں اس کو دیکھ پاتا ہے لپٹ جاتا ہے اور خوش ہوتا ہے چونکہ وہ بالکل ایک نرالی زبان ہے اور اس کے جاننے والے کہیں کوئی خال خال پائے جاتے ہیں۔جب