سفر یورپ 1924ء — Page 226
۲۲۶ چوہدری صاحب کو حضور نے وہاں پہلے جا کر تیاری کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ وہاں احمدی لوگ بھی تھے ان کو تلاش کر کے جمع کرنے کی کوشش کریں۔حضور نے فرمایا کہ ملک غلام فرید صاحب کو بھی ساتھ لے جائیں اور دونوں مل کر تین دن تک کام کریں کہ وہاں کے لوگ جو اسلام کے قریب ہیں وہ اور زیادہ قریب ہو جائیں۔حضور نے فرمایا کہ قصبات اور دیہات میں کام کرنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہاں جلد تر اور سہولت سے تبلیغ ہو سکے گی اور اس کا اثر شہروں پر بھی پڑے گا۔حضور نے فرمایا کہ شہری آدمی تو اتنے مصروف ہیں کہ ان کو دین کی سمجھ ہی نہیں آسکتی کیونکہ ان کو ہوش ہی نہیں۔فیشن کی ایسی ایک رو ہے کہ بازاروں میں ایک تماشا ہوتا ہے اور لوگ چلتے چلتے بھی دکانات میں لٹکتی ہوئی چیزوں کو دیکھتے جاتے ہیں کہ مبادا کوئی نیا فیشن نکل آیا ہو جس کی انہیں اطلاع نہ ہو اور انہوں نے نہ لیا ہو تو اس سے ان کی ہتک ہو جائے اور اس طرح سوسائٹی میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے۔حضور نے فرمایا کہ آپ لوگ جا کر خوب کام کریں اور ایک مضمون کا عنوان میسج فرام ہیون (Message from Heaven) رکھیں اگر ہو سکا تو دوسرا مضمون بھی دے دیا جائے گا اگر موقع ہوا تو اس کے واسطے کسی اور صاحب کو نوٹ لکھا دیں گے تا دوسرا مضمون وہ بول لیں۔الغرض حضور کی توجہ اس طرف ہے کہ چھوٹے چھوٹے شہروں سے تبلیغ کو شروع کیا جاوے تا کہ ان کا اثر بڑے شہروں پر پڑے کیونکہ چھوٹے شہروں کے لوگوں کو ایسے غافل کرنے والے سامان نسبتا کم میسر آتے ہیں جو بڑے شہروں میں بہت زیادہ ہیں۔حضور نے فرمایا کہ حافظ صاحب کو ارادہ ہے کہ پانچ چھ دن کے واسطے کا رڈنگ بھیج دیا جائے تاکہ وہاں کے عربوں میں تبلیغ کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ وہاں خوب کامیابی ہوگی۔عربوں کی آبادی ہے انہوں نے انگریز عورتوں سے شادیاں کی ہوئی ہیں اور ان کی اولا دیں اب انگریز ہی نظر آتی ہیں۔مذہبی کا نفرنس کے مضمون کی طبع کا کام حضرت اقدس نے مولوی محمد دین صاحب کے