سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 157 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 157

۱۵۷ ایک پانچ کرسیوں کی اور دوسری لائن میں چار خادم کھڑے اور تین حضرت اقدس کے قدموں میں بیٹھے تھے۔ان دو کے سوا باقی چار فوٹو صرف حضرت اقدس کے تھے مختلف اشکال میں۔ایک پورا کھڑا۔ایک پورا کرسی پر کی نشست میں اور ایک کیبنیٹ برسٹ اور دوسرا کیبنیٹ نشست میں۔ان سب فوٹو ؤں پر جو ضروریات تبلیغ کی غرض سے حضور نے تیار کرائے ہیں ۶ یا۔پونڈ خرچ ہوگا۔فوٹوگرافر حضرت اقدس کی تصویر لینے میں تصنع اور فیشن کی کوشش کرتا تھا اور کبھی حضور کو ٹیڑھے بیٹھنے کی درخواست کرتا تھا۔کبھی گردن موڑ کر بیٹھنے کو کہتا۔حضور نے ان باتوں کو نا پسند فرما کر فر مایا کہ یہ سب باتیں آن نیچرل ( غیر طبعی ) اور بناوٹ و تکلفات ہیں جو بازاری لوگوں کا کام ہے۔میں ان کو پسند نہیں کرتا۔قدرتی اور بے تکلفانہ سیدھا سادہ فوٹو چاہتا ہوں۔چنانچہ پھر ایسا ہی کیا گیا۔ایک فوٹو میں یہ سوال تھا کہ حضرت کے ہاتھ میں چھڑی رہے یا کرسی پر ہاتھ ہو۔حضور نے اس پر فر مایا کہ ان باتوں کو دین سے کوئی تعلق نہیں۔چھڑی ہو تو حرج نہیں اور کرسی پر ہاتھ ٹکا ر ہے تو بھی کوئی نقصان نہیں چنانچہ کرسی پر ہاتھ رکھ کرفوٹو کھوایا گیا۔فوٹو سے فارغ ہو کر حضور تک کے دفتر میں تشریف لے گئے اور لنڈن کے ٹکٹ خرید فرمائے جن پر حضور کا بہت وقت خرچ ہوا اور بہت محنت کرنی پڑی۔( حسابات وغیرہ کی ) پہلے - حضرت کے حضور ر پورٹ پہنچی تھی کہ پیرس سے لنڈن تک بھی تھرڈ کلاس مل جائیں گے مگر کل جب حضور کو بتایا گیا بلکہ ٹکٹ بن کر تیار بھی ہو گئے تو حضور نے ملاحظہ فرمانے میں بھاری غلطی پکڑی۔دراصل ان ٹکٹوں کے ذریعہ سے حضرت کے سوا ساری پارٹی پیچھے رہ جاتی اور بجائے ساڑھے تین بجے دن کے ساڑھے دس بجے رات کو لنڈن پہنچتی مگر حضور چونکہ کل لنڈن تار دے چکے تھے جس کی وجہ سے وہاں انتظامات بھی ہو چکے ہوں گے لہذا حضور نے اس کو نا پسند فرمایا اور پھر نئے سرے سے سارے ٹکٹ ردی کرا کر دوبارہ بنوائے اور اس طرح قریباً ۱۲ پونڈ زیادہ ادا کرنے پڑے۔تک والوں نے عرض بھی کیا کہ تھوڑی سی بات کے واسطے اتنا روپیہ کیوں خرچ کرتے ہیں۔قافلہ والے دن کو نہیں تو رات کو پہنچ جائیں گے یا دوسری صبح کو پہنچ جائیں اس میں کیا حرج ہے۔حضور نے فرمایا