سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 158 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 158

۱۵۸ کہ ہم لوگوں کا کام ایک نظام کے ماتحت ہے اور ہمارا ایک پروگرام ہے جس پر ہم کو عمل کرنا ہے۔اس کے علاوہ لنڈن میں بھی کچھ انتظامات ہیں اگر ہم وقت پر نہ پہنچیں تو اس میں بہت بڑا حرج اور تکلیف ہے لہذا ہم مقررہ وقت پر ہی اور اکٹھے پہنچنا چاہتے ہیں۔کٹک کے دفتر سے فارغ ہو کر حضور مکان پر تشریف لائے اور تھوڑی دیر تک آرام فرما کر شام کا کھانا تناول فرمایا جو جلدی تیار کرایا گیا تھا اور پھر جلدی اپنے کمرے میں تشریف لے گئے۔لاٹر بیہونا (Latribuna) کے فوٹو گرافر نے حضرت اقدس کے حضور دوفو ٹو بھیجے اور پھر دو بارہ حضرت اقدس کا فوٹو لینے کی درخواست کی جو حضور نے منظور فرمائی اور ۲۰ راگست کی صبح کو ۹ بجے کا وقت دیا۔اس کے فوٹو کے جواب میں حضور نے ایک چٹھی شکریہ کی اس کو لکھوائی ہے اور اس کو دس اور فوٹو کا آرڈر کیا اور فرمایا کہ یہ فوٹو قا دیان بطور تحفہ بھیج دیں گے۔یہ وہ فوٹو ہے جو اخبار لاٹر یونا مورخه ۲۰ اگست ۱۹۲۴ء میں شائع ہوا تھا۔- فوٹو ۹ بجے ہونے والا تھا جس کے واسطے صبح مجھے حکم دیا گیا کہ تم جا کر نو وا روما (Nova Roma) ہوٹل میں مقیم لوگوں کو اطلاع دو کہ ۹ بجے فوٹو ہو گا اس کے واسطے ساڑھے بجے یونیفارم پہن کر کانٹی نینٹل ہوٹل میں آجاویں۔میں نے اطلاع کر دی۔پھر ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے ذریعہ سے یہی حکم دہرایا گیا وہ بھی اطلاع کر کے چلے گئے۔چنانچہ بعض لوگ جلدی اور بعض ذرا دیر کر کے جاپہنچے۔حضرت اقدس کی طرف سے جواب طلبی ہوئی کہ جب سوا آٹھ بجے حاضری کا حکم تھا تو تم لوگ کیوں وقت پر حاضر نہیں ہوئے۔( سب لوگ پونے نو بجے تک وہاں پہنچ چکے تھے ) اور فوٹو گرافر ابھی تک آیا نہ تھا۔عرض کیا گیا کہ حضور کا حکم ساڑھے آٹھ بجے حاضری کا تھا سو لوگ ٹھیک وقت پر آگئے ہیں اور پھر حضور نے یا پیغام بر نے اسی بات کو دہرایا کہ حکم سوا آٹھ بجے کا تھا۔اگر ایسا نہیں تو پھر کیوں بعض لوگ پہلے اور بعض پیچھے آئے۔عرض کیا گیا کہ حضور بعض مقررہ وقت سے پہلے حاضر ہو گئے اور بعض ٹھیک وقت پر حاضر ہوئے ہیں۔خیر چند مرتبہ ہیرا پھیری کے بعد معاملہ طے ہو گیا۔پھر مولوی عبدالرحیم صاحب درد کی طلبی ہوئی اور نہ معلوم ان سے کیا بیتی اور انہوں نے کیا