سفر یورپ 1924ء — Page 156
ܪܬܙ نمایاں طور سے واضح اور مترشح نہیں ہوتی اس لئے عیسائیوں کو اس خیال کے اپنانے کا موقع مل گیا ہے مگر اب ہماری جماعت دوبارہ اس خیال کو لے کر کھڑی ہوئی ہے اور اس نیت سے کھڑی ہوئی ہے کہ اسی کے سر پر اس کی تکمیل کا سہرا ہوگا کیونکہ خدا نے یہ کام خود اس کے سپر دفرمایا ہے۔(س) کیا پرافٹ (prophet) احمد فوت ہو چکے ہیں ؟ ( جیسا کہ اس کو چوہدری فتح محمد صاحب کی پہلی ملاقات سے کچھ معلوم ہو چکا تھا ) ( ج ) حضور نے فرمایا ہاں وہ فوت ہو چکے ہیں مگر مشن ان کا زندہ ہے۔(س) مسولینی سے آپ نے ملاقات کی ہے اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ (ج) حضور نے فرمایا کہ میں بہت تھوڑی دیر تک ان سے ملا ہوں اور میں ایک ہی ملاقات میں ایک ایسے شخص کے متعلق کوئی رائے قائم کرنے کو ٹھیک نہیں سمجھتا اور نہ ہی کوئی رائے قائم کر سکتا ہوں مگر فر ما یا مفید آدمی ہے۔مفید کام کر رہا ہے۔(س) پوپ سے ملنے کا بھی آپ کو خیال ہے ( طنز کے طور پر سوال تھا ) (ج) حضور نے فرمایا کہ خیال تو تھا کہ ملیں مگر اس کا مکان ٹھیک نہیں ملاقات ہو نہیں سکی۔(س) آپ اٹلی میں کب تک ٹھہریں گے؟ (ج) حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں کل شام لنڈن جا رہا ہوں وہاں دو ماہ قیام ہے اور ایک جلسہ میں شرکت بھی ہے۔واپسی پر اگر ممکن ہوا تو ٹھہرنے کی کوشش کروں گا۔اٹلی یورپ کا پہلا ملک ہے جو ابھی میں نے دیکھا ہے۔ان مختصر سوالات کے بعد وہ اجازت لے کر چلا گیا۔چوہدری صاحب نے پہلی ملاقات میں اسی کو حضرت اقدس کی تعریف اور غرض سفر مختصراً لکھ کر دی تھی جو اس نے اپنے اخبار میں شائع کر دی۔اخبار کے پرچے لئے گئے ہیں۔اس ایڈیٹر کی ملاقات سے فارغ ہو کر حضرت نے نمازیں پڑھائیں اور پھر فوٹو گرافر کے مکان پر جا کر چھ قسم کے فوٹو کھوائے جن میں سے دو تو خدام سمیت تھے۔ان میں سوائے چوہدری علی محمد صاحب کے باقی سب خدام تھے اور یہ گروپ حضرت اقدس سمیت ۱۲ کس کا تھا۔ایک فوٹو میں پانچ کرسیاں تھیں اور سات خادم دوسری لائن میں کھڑے تھے۔دوسرے فوٹو میں تین قطار تھیں۔