سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 123 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 123

۱۲۳ ۱۶ / اگست ۱۹۲۴ء : حضور کی طبیعت میں کچھ آفاقہ معلوم ہوتا ہے۔اس وقت آرام فر ماتے ہیں۔قادیان کی لمبی تار جو پہلے روک لی گئی تھی ۳۸۳ الفاظ پر مشتمل ہے۔میں نے محض اس خیال سے اس کو نقل نہ کیا تھا کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب میں رکھ لیا ہے میں اس کو شائع کر کے آپ بزرگوں کی تکلیف کا باعث کیوں بنوں مگر اللہ تعالیٰ کو منظور یہی تھا جو ہو ا۔خوف اور امید، غم اور خوشی کا لمبا تا ر آخر روانہ کر ہی دینے کا فیصلہ کر دیا گیا۔گو اس میں بعض باتوں کے متعلق نا راضگی کا اظہار اور جواب طلبی بھی ہے مگر دمشق کے حالات کی رپورٹ کا جو خا کہ حضور نے کھینچ کر آپ کو بھیج دیا ہے میری ۷۲ صفحات کی رپورٹ بھی یہ کام نہ کر سکے گی۔بہر حال وہ تار آج برنڈ زی سے روانہ ہو گا۔ایک تا راسی کے ساتھ حضور نے لنڈن بھجوایا ہے اور لنڈن کے کوائف طلب فرمائے ہیں اور لکھا ہے کہ ۲۲ / اگست تک انشاء اللہ لنڈن پہنچیں گے۔ٹھیک تار پھر دیا جاوے گا۔ایک تار برلن بھی دیا گیا ہے۔مولوی مبارک علی صاحب سے حالات طلب کئے ہیں مگر تین دن کے اندر روم میں تین دن قیام کا ارادہ ظاہر فرمایا ہے۔صبح کی نماز کے بعد سے جزائر سلی (Scisly) کا سلسلہ شروع ہے اور یورپین آبادی بالکل کنارے پر نظر آ رہی ہے۔ہمارے جہاز کا رخ اس وقت جانب شمال مغرب ہے۔سسلی کے جزائر جانب غرب ہیں۔میلوں سے یہ سلسلہ ساتھ ساتھ چلا آ رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی آبادشہر کے ساتھ ساتھ جا رہے ہیں۔آبادی تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے مسلسل چل رہی ہے۔جنگل یا غیر آباد علاقے درمیان میں نظر نہیں آتے۔سب دوست دعاؤں میں لگے ہوئے ہیں۔سامان باندھ کر تیار رکھا ہے۔اب تو برنڈ زی بھی نظر آنے لگا ہے مگر بتاتے ہیں کہ ابھی کم از کم ایک گھنٹہ کی راہ باقی ہے۔برنڈ زی کو دیکھ کر دوستوں نے پھر دعائیں کیں اور بعض جن کو دعا پوری یا د نہ تھی انہوں نے یاد کرنی شروع کی ہوئی ہے تا کہ آئندہ یورپ کے تمام شہروں میں اس مسنون دعا کو حضرت اقدس کے حکم کے ماتحت بالالتزام مانگ لیا کریں۔موسم پورٹ سعید سے لے کر اس مقام تک قریباً یکساں ہی چلا آ رہا ہے۔کوئی سردی نہیں