سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 124 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 124

۱۲۴ ہے البتہ تیز ہوا کی وجہ سے کسی قدر خنکی معلوم دیتی ہے والا ان ممالک تک معلوم ہوتا ہے کہ سردی کا اثر نہیں ہے بلکہ بتاتے ہیں کہ برنڈ زی گرم ترین مقام ہے۔برنڈزی سے ساڑھے نو بجے ایک ایکسپریس ٹرین سیدھی روم کو جاتی بتائی جاتی ہے اگر ساڑھے ٹو تک جہاز سے اتر نے اُتارنے سے فارغ ہو گئے اور کسٹم وغیرہ کے جھگڑے بکھیڑوں سے نجات مل گئی تو انشا اللہ آج ہی شام تک روم پہنچیں گے ورنہ کل جائیں گے۔دوسرا ٹرین نیپلز (naples) تبدیل ہو کر روم کو جاتا ہے سیدھا روم نہیں جاتا۔ڈاکٹر صاحب ابھی اوپر سے آئے ہیں فرماتے ہیں حضور کی طبیعت جیسی اچھی رات کو تھی ویسی اچھی آج نظر نہیں آتی۔صبح قضائے حاجت کو تشریف لے گئے مگر اجابت ٹھیک نہیں ہوئی۔انیما کیا گیا ہے اور حضور پھر چوکی پر ہیں۔کل بھی دو مر تبہ انما کیا گیا تھا۔رات چوہدری صاحب اور عرفانی صاحب کی خبر منگانے کے لئے مولوی عبدالرحیم صاحب در داو پر بے تار برقی پیغام رسانی کے دفتر میں گئے سگنیلر (Signaler) بے چارے نے انگلیاں ہلائیں اور آلہ برقی کو کانوں سے لگایا۔انگلیوں کے ہلتے ہی سبز سبز رنگ کے شرارے بجلی کے اس میں سے نکلے اور ساتھ ہی سر سُر کی آواز آئی۔بمشکل نصف منٹ گزرا ہوگا کہ اس نے مولوی صاحب سے کہا نو پاسی بل (No Possible اور کہ آس پاس کے سب جہازوں کو میرا تا ر پہنچ گیا ہے جو ادھر اُدھر پانچ سو میل کے محیط میں تھے۔وہ جہاز جس میں آپ کے آدمیوں کی آمد کی امید ہے پانچ سومیل سے دور ہے اور ۷۰۰ یا ۸۰۰ میل کے فاصلہ پر ہے لہذا نو پاسی بل (No Possible) تعجب کی بات ہے اور کارخانہ قدرت کے عجائبات کی کوئی انتہا نہیں کیا کیا سامان سہولت پیدا کر دیئے ہیں۔پانچ پانچ سو میل کے فاصلہ پر خبر کا جانا اور اس کا جواب بھی مل جانا طرفہ یہ کہ وقت صرف نصف منٹ خرچ ہوا۔مولوی صاحب نے حیرت اور تعجب سے پوچھا بھی کہ جواب کب تک آئے گا ؟ کیونکہ مولوی صاحب نے تا رکو پہلے ” نو پاسی بل (No Possible) سے یہی سمجھا تھا کہ اس نے قیاس سے ایسا کہہ دیا ہے مگر جب اس نے کہا کہ یو هیوسین ( You have seen) ( تم نے جواب آتے (You دیکھ لیا ) تو مولوی صاحب بہت حیران ہوئے۔یہ تمام کا رخانہ قدرت حقیقتا حضرت مسیح موعود ہی کی