سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 122 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 122

۱۲۲ میری چھلی رپورٹ جو پورٹ سعید سے روانہ کی گئی تھی اور اس میں دمشق کے تفصیلی حالات درج ہیں اگر الفضل کو نہ ملی ہو تو عزیز عبد القادر سے لے کر بے شک غیر ضروری حصص کو چھوڑ کر باقی شائع کر دی جاوے خواہ بہائیوں کے حالات بھی شائع کر دیں کوئی روک باقی نہیں ہے۔رپورٹ چونکہ جلدی اور انتہائی مصروفیتوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے لکھی جاتی رہی ہے لہذا غلطی ، نقصان فہم اور کوتا ہی کا امکان ہے جو یقیناً میری کمزوری ، کم علمی یا کوتا ہی و جہالت کا نتیجہ ہوگی لہذا ذرا توجہ سے اچھی طرح دیکھ بھال کر کے شائع کی جاوے۔صوفی ازم پر جو مضمون حافظ روشن علی صاحب نے لکھنا تھا ابھی تک انہوں نے شروع بھی نہیں کیا۔حضرت اقدس نے آج بعد عصر ان کو بلوا کر نوٹ لکھائے ہیں اور مضمون کی ترتیب بتائی ہے امید ہے کہ آج یا کل سے حافظ صاحب لکھنا شروع کر دیں گے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ وسط اگست تک مضمون کمیٹی کو بھیجنے کا ہم نے وعدہ کیا تھا سو وسط اگست تو گزر چکی ہے اب ۲۰ / اگست تک تو ان کو پہنچ جاوے۔رات حضرت اقدس نے بعد نماز عشاء مجھ کو بلوا کر سفر مصر و شام وفلسطین کی رپورٹ لکھوائی۔کچھ پہلے خود لکھی ہوئی تھی ۴۰ صفحات پورے فل سکیپ کے لکھوا کر حکم دیا کہ باقی صبح کو انشاء اللہ پھر لکھوائیں گے۔ڈاکٹر نے آنا تھا بس کر وا دیا۔اسی قسم کے حالات میں نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھے ہوئے ہیں مگر حضور کی رپورٹ ایسی مکمل اور جاندار ہے کہ اس کے بعد کسی اور رپورٹ یا تفصیل کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔حضور نے تو واقعات میں ایک جان ڈال دی ہے اور نہایت مرتب کر کے ان کو لکھا نا شروع فرمایا ہے اور تمام نتیجہ خیز باتیں ہیں میں نے کوڑا کرکٹ سب کچھ جمع کر دیا تھا۔الغرض حضور کی اپنی لکھی اور لکھائی ہوئی رپورٹ شائع ہونے پر جو لطف آپ دوستوں کو آ جائے گا اس کا اندازہ بھی کون کرسکتا ہے۔بہائیوں کے خلیفہ محمد علی نے جو کتاب البیان کے نام سے دی تھی وہ نسخہ قلمی تھا۔اس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شاید البیان نہ ہو بلکہ کوئی اور ہی کتاب ہو۔اس کے دستخط کر کے نہ دینے سے یہ طیبہ اور بھی قوی ہوتا نظر آتا ہے۔اول تو قلمی ہے دوسرے اگر مطبوعہ بھی ہوتی تو سُنا ہے کہ ان پر بھی وہ پر لیس اور تاریخ وغیرہ نہیں لکھتے پھر کیا اعتبار ہے۔