سفر یورپ 1924ء — Page 364
۳۶۴ ہو گئے اور دوسرا یہ کہ ان لڑائیوں میں آپ کو کئی ایسے اخلاق کے دکھانے کا موقع ملا جو بغیر جنگوں کے مخفی رہتے اور اس سے آپ کی اخلاقی برتری ثابت ہو گئی۔اس طرح یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ نے کیسی وفاداری اور قربانی کی روح ایک مُردہ قوم مین پھونک دی تھی۔چنانچہ مثال کے طور پر میں اُحد کی جنگ کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔مدینہ آنے کے تین سال بعد کفار مکہ نے تین ہزار کا لشکر تیار کر کے مدینہ پر حملہ کیا۔مدینہ مکہ سے دوسو میل کے فاصلہ پر ہے۔دشمن اپنی طاقت پر ایسا نازاں تھا کہ مدینہ تک حملہ کرتا ہوا چلا آیا اور مدینہ سے آٹھ میل پر اُحد کے مقام پر رسول کریم اس کو روکنے کے لئے گئے۔آپ کے ساتھ ایک ہزار سپاہی تھے۔آپ نے جو احکام دیئے اس کے سمجھنے میں ایک دستہ فوج سے غلطی ہوئی۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کو پہلے فتح ہو چکی تھی دشمن پھر ٹوٹ پڑا اور ایک وقت ایسا آیا کہ دشمن نے زور کر کے مسلمانوں کو اس قدر پیچھے دھکیل دیا کہ صرف رسول کریم سے دشمنوں کے نرغے میں رہ گئے۔آپ نے جرات اور دلیری کا یہ نمونہ دکھایا کہ باوجود اس کے کہ اپنی فوج ہٹ گئی تھی مگر آپ پیچھے نہ ہٹے اور دشمن کے مقابلہ پر کھڑے رہے۔جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ رسول کریم ﷺ اپنی جگہ سے نہیں ہے اور وہیں کھڑے ہیں تو انہوں نے یک دم حملہ کر کے آپ تک پہنچنا چاہا لیکن صرف چودہ آدمی آپ تک پہنچ سکے۔اس وقت ایک شخص نے ایک پتھر مارا اور آپ کا سر زخمی ہو گیا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے اور آپ کو بچاتے ہوئے کئی اور مسلمان قتل ہو کر آپ پر جا گرے اور لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔وہ لوگ ایک عاشق کی طرح تھے اس خبر کو سن کر کئی لوگ میدان جنگ میں ہی ہتھیار ڈال کر بیٹھ گئے اور رونے لگے۔ایک مسلمان جس کو اس امر کا علم نہ تھا وہ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔اس نے کہا رسول کریم تو شہید ہو گئے ہیں۔اس نے کہا واہ اس سے بڑھ کر لڑنے کا موقع کب ہوگا جہاں وہ ہمارا محبوب گیا ہے وہیں ہم جائیں گے۔یہ کہہ کر تلوار ہاتھ میں لے کر دشمن کی صفوں پر ٹوٹ پڑا اور آخر مارا گیا۔جب اس کی لاش کو دیکھا گیا تو ستر زخم اس پر لگے ہوئے تھے۔جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے جب آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے سے نکالا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔اس وقت پھر لشکر اسلام جمع ہونا شروع ہو گیا اور دشمن بھاگ گیا۔