سفر یورپ 1924ء — Page 363
۳۶۳ حاصل کریں۔پس آپ کبھی ایک تعلیم پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ ہمیشہ ہر چیز کے سب پہلوؤں کو بیان کرتے تھے مثلاً یہ نہیں کہتے تھے کہ نرمی کرو ، عفو کرو بلکہ یہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص تم کو تکلیف دے تو یہ سوچو کہ اس شخص کی اصلاح کس بات میں ہے۔اگر وہ شخص شریف الطبع ہے اور معاف کرنے سے آئندہ ظلم کی عادت کو چھوڑ دے گا اور اس نمونہ سے فائدہ حاصل کرے گا تو اسے معاف کر دو اور اگر یہ دیکھو کہ وہ شخص بہت گندہ ہو چکا ہے اور اگر تم اسے معاف کرو گے تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ اس شخص نے مجھ سے ڈر کر مجھے سزا نہیں دی یا نہیں دلوائی اور اس وجہ سے وہ بدی پر دلیر ہو جائے گا اور اور لوگوں کو بھی دکھ دے گا تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا دو کیونکہ ایسے شخص کو معاف کرنا دوسرے ناکردہ گناہ لوگوں پر ظلم ہے جو ایسے شخص کے ہاتھ سے تکلیف اٹھارہے ہیں یا آئندہ اُٹھا سکتے ہیں۔(10) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ کبھی کسی دوسری حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ جنگ صرف بطور دفاع کے جائز ہے اور اس وقت بھی اگر دوسرا فریق اپنی غلطی پر پشیمان ہو کر صلح کرنا چاہے تو صلح کر لینی چاہیے۔(11) آپ کی یہ تعلیم بھی تھی کہ انسان کی روح مرنے کے بعد برابر ترقی کرتی چلی جائے گی اور کبھی فنا نہ ہوگی حتی کہ گناہ گار لوگ بھی ایک مدت اپنے اعمال کی سزا بھگت کر خدا کے رحم سے بخشے جائیں گے اور دائمی ترقی کی سڑک پر چلنے لگیں گے۔اہل مکہ نے جب دیکھا کہ مدینہ میں آپ کو اپنی تعلیم کے عام طور پر پھیلانے کا موقع مل گیا ہے اور لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ہیں تو انہوں نے متواتر مدینہ پر چڑھائیاں کرنی شروع کیں مگر ان لشکر کشیوں کا نتیجہ بھی ان کے حق میں بُرا نکلا اور رسول کریم کی اس سے بھی برتری ثابت ہوئی کیونکہ گو بڑی بڑی تیاریوں کے بعد مکہ والوں نے مدینہ پر حملہ کیا اور مسلمان ہر دفعہ تعداد میں ان سے کم تھے۔عموماً ایک مسلمان تین اہل مکہ کے مقابلہ پر ہوتا تھا مگر پھر بھی غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی اور اہل مکہ کو شکست ہوئی۔بعض دفعہ بے شک مسلمانوں کو عارضی تکلیف بھی پہنچی مگر حقیقی معنوں میں کبھی شکست نہ ہوئی اور ان لشکر کشیوں کے دو نتیجے نکلے۔ایک تو یہ کہ بجائے اس کے کہ رسول کریم علیہ تباہ ہوتے آپ سارے عرب کے بادشاہ صلى الله