سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 365 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 365

اس وقت ایک مسلمان سپاہی اپنے ایک رشتہ دار کو نہ پا کر میدان جنگ میں تلاش کرنے لگا آخر اسے میدان جنگ میں اس حالت میں پایا کہ اس کی دونوں لاتیں کئی ہوئی تھیں اور سب جسم زخمی تھا اور اس کی آخری حالت معلوم ہوتی تھی۔اس کو دیکھتے ہی اس زخمی نے پوچھا کہ رسول کریم کا کیا حال ہے۔اس نے کہا کہ آپ خیریت سے ہیں۔یہ بات سن کر اس کا چہرہ خوشی سے ٹمٹما اٹھا اور سن کر کہنے لگا کہ اب میں خوشی سے جان دوں گا۔پھر اس عزیز کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ میری ایک امانت ہے وہ میرے عزیزوں کو پہنچا دینا اور وہ یہ ہے کہ ان سے کہنا کہ محمد رسول اللہ خدا تعالیٰ کی امانت ہے اس کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے۔دیکھنا اس کی حفاظت میں کوتا ہی نہ کرنا اور یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے جان دے دی۔یہ تو مردوں کی وفاداری کا حال ہے عورتیں بھی اس سے کم نہ تھیں۔مدینہ میں بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں اور سب عورتیں اور بچے شہر سے نکل کر میدان جنگ کی طرف گھبرا کر چل پڑے تھے۔اتنے میں ان کو شکر ملا جو خوشی سے آپ سمیت واپس لوٹ رہا تھا۔ایک عورت نے ایک سپاہی سے آگے بڑھ کر پوچھا کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اسے چونکہ معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس نے اس کی پرواہ نہ کی اور اسے کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔اس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی میں محمد دی اے کی بابت پوچھتی ہوں۔اس نے پھر بھی پرواہ نہ کی اور کہا کہ تیرے دونوں بھائی بھی مارے گئے ہیں۔اس نے پھر چڑ کر کہا کہ میں تجھ سے بھائیوں کے متعلق نہیں پوچھتی میں رسول کریم کے متعلق پوچھتی ہوں۔اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا کہ الحمد اللہ اگر آپ زندہ ہیں تو سب دنیا زندہ ہے۔پھر مجھے پرواہ نہیں کہ میرا باپ مارا گیا ہے یا میرے بھائی مارے گئے ہیں۔یہ اخلاص اور یہ محبت اس کامل نمونے کے بغیر جو آپ نے دکھایا اور اس گہری محبت کے بغیر جو آپ کو بنی نوع انسان سے تھی کس طرح پیدا ہوسکتا تھا۔اسی طرح ایک دفعہ اسلامی لشکر ایک پہاڑی درّہ میں سے گزر رہا تھا جس کے دونوں طرف دشمن کے تیر انداز چھپے ہوئے تھے۔مسلمانوں کو اس جگہ کا علم نہ تھا۔ایک تنگ سڑک درمیان سے گزرتی تھی۔جب اسلامی لشکر عین درمیان میں آ گیا تو دشمن نے تیر مارنے شروع کئے۔اس اچانک حملہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھوڑے اور اونٹ ڈر کر دوڑ پڑے اور سوار بے قابو ہو گئے۔رسول کریم