سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 353 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 353

۳۵۳ میں تم کو یہ ناممکن خبر دوں کہ مکہ کے پاس ہی ایک بڑا لشکر اُترا ہوا ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ یہ بات بظاہر ناممکن تھی کیونکہ مکہ اہل عرب کے نزدیک متبرک مقام تھا اور یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ کوئی قوم اس پر حملہ کرنے آئے گی اور پھر یہ بھی بات تھی کہ مکہ کے جانور دور دور تک چرتے تھے اگر کوئی لشکر آتا تو ممکن نہ تھا کہ جانور چرانے والے اس سے غافل رہیں اور دوڑ کر مکہ کے لوگوں کو خبر نہ دیں مگر باوجود اس کے کہ یہ بات ناممکن تھی سب لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کی بات ضرور مان لیں گے کیونکہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔آپ نے فرمایا کہ جب تم گواہی دیتے ہو کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا تو میں تم کو بتاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں اس کا پیغام تم کو پہنچاؤں اور یہ سمجھاؤں کہ جو کام تم کرتے ہو اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔یہ بات سنتے ہی لوگ بھاگ گئے اور کہا کہ یہ شخص پاگل ہو گیا ہے یا جھوٹا ہے۔تمام شہر میں شور پڑ گیا اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے ان پر نہایت سختیاں ہونے لگیں۔بھائی نے بھائی کو چھوڑ دیا۔ماں باپ نے بچوں کو نکال دیا - آقاؤں نے نوکروں کو دکھ دینا شروع کیا۔غرض عجیب طرح سے ان لوگوں کو جو آپ پر ایمان لاتے تکالیف دینی شروع کیں۔چودہ چودہ پندرہ پندرہ سالہ نوجوانوں کو جو کسی رسم و رواج کے پابند نہ تھے بلکہ مذہب کی تحقیق میں اپنی عقل سے کام لیتے تھے اور اسی لئے جلد آپ پر ایمان لے آتے تھے ان کے ماں باپ قید کر دیتے اور کھانا اور پانی دینا بند کر دیتے تاکہ وہ تو بہ کر لیں مگر وہ ذرہ بھی پرواہ نہ کرتے تھے اور خشک ہونٹوں اور گڑھے میں گھسی ہوئی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتے یہاں تک کہ ماں باپ آخر اس ڈر سے کہ کہیں مر نہ جائیں ان کو کھانا پینا دے دیتے مگر نو جوانوں پر تو رحم کرنے والے لوگ موجود تھے جو غلام آپ پر ایمان لائے ان کی حالت نہایت نازک تھی اور یہی حال دوسرے غرباء کا تھا جن کی مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔غلاموں کو لوہے کی زرہیں پہنا دیتے تھے اور پھر ان کو سورج کے پاس کھڑا کر دیتے تھے تا کہ لو ہا گرم ہو کر ان کا جسم جھلس جائے۔( یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ وہ عرب کا سورج تھا نہ کہ انگلستان کا ) بعض کی لاتوں میں رسیاں ڈال کر ان کو زمین پر گھسیٹتے تھے۔بعض دفعہ لوگ لو ہے کی سیخیں گرم کر کے ان سے مسلمانوں کا جسم جلاتے تھے اور بعض دفعہ سوئیوں سے ان کے چمڑے کو اس طرح چھید تے تھے جس طرح کہ کپڑا سیتے ہیں مگر وہ ان سب باتوں کو برداشت کرتے تھے اور عذاب کے وقت کہتے جاتے