سفر یورپ 1924ء — Page 352
۳۵۲ کی طرف سے رسول ہیں۔اس کے بعد ابو بکر نے ایسے نو جوانوں کو جمع کر کے جو اُن کی نیکی اور تقویٰ کے قائل تھے سمجھانا شروع کیا اور سات آدمی اور رسول کریم پر ایمان لائے۔یہ سب نوجوان تھے جن کی عمر ۱۲ سال سے لے کر پچیس سال تک تھی۔سچائی کا قبول کرنا آسان کام نہیں۔مکہ کے لوگ جن کا گزارہ ہی بتوں کے معبودوں کی حفاظت اور مجاورت پر تھا وہ کب اس تعلیم کی برداشت کر سکتے تھے کہ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم دی جائے۔جو نہی ایمان لانے والوں کے رشتہ داروں کو معلوم ہوا کہ ایک ایسا مذ ہب مکہ میں جاری ہوا ہے اور ان کے عزیز اس پر ایمان لے آئے ہیں انہوں نے ان کو تکلیف دینی شروع کی۔حضرت عثمان کو ان کے چچا نے باندھ کر گھر میں قید کر دیا اور کہا کہ جب تک اپنے خیالات سے تو بہ نہ کرے میں نہیں چھوڑوں گا اور زبیر ایک اور مومن تھے ان کی عمر پندرہ سال کے قریب تھی ان کو بھی ان کے رشتہ داروں نے قید کر دیا اور ان کو تکلیف دینے کے لئے جس جگہ ان کو بند کیا ہوا تھا اس میں دھواں بھر دیتے تھے مگر وہ اپنے ایمان پر پختہ رہے اور اپنی بات کو نہ چھوڑا۔ایک اور نوجوان کی والدہ نے ایک نیا طریق نکالا۔اس نے کھانا کھانا چھوڑ دیا اور کہا کہ جب تک تو اپنے آباء کی طرح عبادت نہیں کرے گا اس وقت تک میں کھانا نہیں کھاؤں گی مگر اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں دنیا کے ہر معاملہ میں ماں باپ کی فرمانبرداری کروں گا مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ان کی نہیں مانوں گا کیونکہ خدا تعالیٰ کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہے۔غرض سوائے ابوبکر اور خدیجہ کے آپ پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے سب نوجوان تھے جن کی عمریں پندرہ سال سے پچیس سال تک کی تھیں۔پس یوں کہنا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے بوجہ یتیم ہونے کے نہایت چھوٹی عمر سے اپنے لئے راستہ بنانے کی مشق کی جب ان کو خدا تعالیٰ نے مبعوث کیا تو اس وقت بھی آپ کے گرد نوجوان ہی آکر جمع ہوئے۔پس اسلام اپنی ابتداء کے لحاظ سے نو جوانوں کا دین ہے۔چونکہ ہر ایک نبی کے لئے عام تبلیغ کرنی ضروری ہوتی ہے آپ نے ایک دن ایک بلند جگہ پر کھڑے ہو کر مختلف گھرانوں کے نام لے کر بلانا شروع کیا۔چونکہ لوگ آپ پر بہت ہی اعتبار رکھتے تھے سب لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور جو لوگ خود نہ آ سکتے تھے انہوں نے اپنے قائم مقام بھیجے تا کہ سنہیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ اے اہل مکہ اگر