سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 354 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 354

۳۵۴ تھے کہ وہ ایک خدا کی پرستش کو نہیں چھوڑ سکتے۔ایک عورت جو نہایت ہی پختہ مسلمان تھی اس کے پیٹ میں نیزہ مار کر اس کو مار دیا۔خود رسول کریم کو بھی لوگ بہت دکھ دیتے تھے گو ڈرتے بھی تھے کیونکہ آپ کے خاندان کی مکہ میں بہت عزت تھی۔لوگ آپ کو گالیاں دیتے بعض دفعہ نماز میں جب آپ سجدہ کرتے تو سر پر اوجھڑی ڈال دیتے۔کبھی سر پر راکھ پھینک دیتے۔ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے کہ ایک شخص آپ کی گردن پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہو گیا اور دیر تک اس نے آپ کو اسی طرح دبائے رکھا۔ایک دفعہ آپ عبادت کے لئے مسجد مکہ میں گئے تو آپ کے گلے میں کپڑا ڈال کر گھونٹنا شروع کر دیا مگر با وجودان مخالفتوں کے آپ تبلیغ میں لگے رہتے اور ذرہ پر واہ نہ کرتے۔جہاں بھی لوگ بیٹھے ہوتے آپ وہاں جا کر ان کو تعلیم دیتے کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اس کے سوا کوئی شخص معبود نہیں۔نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹی۔نہ اس کے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے۔نہ زمین میں نہ آسمان پر اس کا کوئی شریک ہے۔اس پر ایمان لانا چاہیے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔وہ لطیف ہے اس کو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔اس میں سب طاقتیں ہیں۔اسی نے دنیا کو پیدا کیا ہے اور جب لوگ مرجاتے ہیں تو ان کی روحیں اس کے پاس جاتی ہیں اور ایک زندگی ان کو دی جاتی ہے اور چاہیے کہ اس کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کرے اور اس سے تعلق کو مضبوط کرے اور اس کے قریب ہونے کی خواہش کرے اور اپنے خیالات اور عمل اور اپنی زبان کو پاک کرے۔جھوٹ نہ بولے۔قتل نہ کرے۔فساد نہ کرے۔چوری نہ کرے۔ڈاکہ نہ مارے۔عیب نہ لگائے۔طعنہ نہ دے۔بد کلامی نہ کرے۔ظلم نہ کرے۔حسد نہ کرے۔اپنے وقت کو اپنے آرام اور عیاشی میں صرف نہ کرے بلکہ بنی نوع انسان کی ہمدردی اور بہتری میں اور محبت اور امن کی اشاعت کرے۔یہ تعلیم تھی جو آپ دیتے مگر با وجود اس کے کہ یہ تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی لوگ آپ پر ہنتے۔مکہ کے لوگ سخت بت پرست تھے اور سینکڑوں بت بنا کر انہوں نے اپنے معبد میں رکھے ہوئے تھے جس کے سامنے وہ روزانہ عبادت کرتے تھے اور جن کے آگے باہر سے آنے والے لوگ نذرانے چڑھاتے تھے جن پر کئی معزز خاندانوں کا گزارا تھا۔ان لوگوں کے لئے ایک خدا کی عبادت بالکل عجیب تعلیم تھی۔وہ اس بات کو سمجھ ہی نہ سکتے تھے کہ