سفر یورپ 1924ء — Page 286
۲۸۶ آزاد ہو گیا تھا اس کو ایام گرفتاری میں اس قدر مارا گیا کہ وہ آزاد ہونے کے بعد ۱۴ دن کے اندر فوت ہو گیا۔مولوی نعمت اللہ کی سنگساری : شروع جولائی میں مولوی نعمت اللہ خان صاحب کو بھی حکام نے بلایا اور بیان لیا کہ کیا وہ احمدی ہیں۔انہوں نے حقیقت کو ظاہر کر دیا اور ان کو بیان لے کر چھوڑ دیا گیا۔اس کے چند دن کے بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا اور پھر علماء کی کونسل کے سامنے پیش کیا گیا جس نے اار اگست کو ان سے بیان لیا کہ وہ احمد کو کیا سمجھتا ہے۔انہوں نے اپنے عقائد کا اظہار کیا جس پر علماء کی کونسل نے ان کو احمدی قرار دے کر مرتد قرار دیا اور موت کا فتویٰ دیا۔اس کے بعد ۱۶ / اگست ۱۹۲۴ء کو ان کو علماء کی اپیل کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جس نے پھر بیان لے کر ماتحت عدالت کے فیصلہ کی تائید کی اور فیصلہ کیا کہ نعمت اللہ کو ایک بڑے ہجوم کے سامنے سنگسار کیا جائے۔۳۱ را گست کو پولیس نے ان کو ساتھ لے کر کابل کی تمام گلیوں میں پھرایا اور وہ ساتھ ساتھ اعلان کرتی جاتی تھی کہ اس شخص کو ارتداد کے جرم میں سنگسار کیا جائے گا۔لوگوں کو چاہیے کہ وہاں چلیں اور اس نیک کام میں شامل ہوں۔اسی دن شام کے وقت کابل کی چھاؤنی کے ایک میدان میں ان کو کمر تک زمین میں گاڑا گیا اور پہلا پتھر کا بل کے سب سے بڑے عالم نے مارا۔اس کے بعد ان پر چاروں طرف سے پتھروں کی بارش شروع ہوگئی یہاں تک کہ وہ پتھروں کے ڈھیر کے نیچے دب گئے۔ان کی لاش ابھی تک اس پتھروں کے ڈھیر کے نیچے پڑی ہے اور اس پر پہرہ لگا ہوا ہے۔اس کے بوڑھے باپ نے جو احمدی نہیں ہے گورنمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اس کو لاش دے دیں تا کہ وہ اس کو دفن کر دے مگر گورنمنٹ نے اس کی لاش کو دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔مولوی نعمت اللہ کی استقامت : کابل گورنمنٹ نے مولوی نعمت اللہ خان کو سنگسار کرنے سے پہلے بار بار احمدیت کو چھوڑ دینے کی صورت میں آزادی کا انعام پیش کیا مگر مولوی نعمت اللہ شہید نے ہر دفعہ اسے حقارت سے رڈ کر دیا اور ضمیر کی آزادی کو جسم کی آزادی پر ترجیح دی۔