سفر یورپ 1924ء — Page 287
۲۸۷ جب ان کو سنگسار کرنے کے لئے گاڑا گیا تب پھر آخری دفعہ ان کو ارتداد کی تحریک کی گئی مگر انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کو میں حق جانتا ہوں اس کو زندگی کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا۔جس وقت ان کو گلیوں میں پھر ایا جا رہا تھا اور ان کی سنگساری کا اعلان کیا جا رہا تھا۔اس وقت کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بجائے گھبرانے کے مسکرا رہے تھے گویا کہ ان کی موت کا فتویٰ نہیں بلکہ عزت افزائی کی خبر سنائی جارہی ہے۔شہید مرحوم کی آخری خواہش اور اس کے متعلق افغان حکام کا شکریہ : جب ان کو میدان میں سنگسار کرنے کے لئے لے گئے تو انہوں نے اس وقت ایک خواہش کی جسے افغان حکام نے منظور کر لیا اور ہم اس کے لئے اس کے ممنون ہیں۔وہ خواہش یہ نہ تھی کہ وہ اپنی ماں کو دیکھ لیں یا اپنے بوڑھے باپ کو ایک دفعہ مل لیں بلکہ یہ خواہش تھی کہ اس دنیا کی زندگی کے ختم ہونے سے پہلے ان کو ایک دفعہ اپنے رب کی عبادت کرنے کا پھر موقع دیا جائے۔حکام کی اجازت ملنے پر - انہوں نے اپنے رب کی عبادت کی اور اس کے بعد ان کو کہا کہ اب میں تیار ہوں جو چا ہوسو کر و۔کابل کی سرکاری اخبار کا بیان : کابل کا نیم سرکاری اخبار جس سے شہادت کے واقعات کا اکثر حصہ لیا گیا ہے اپنی ۶ ستمبر کی اشاعت میں حالات شہادت لکھتے ہوئے لکھتا ہے کہ ” مولوی نعمت اللہ بڑے زور سے احمدیت پر پختگی پر مصر رہا اور جس وقت تک اس کا دم نہیں نکل گیا سنگساری کے وقت بھی وہ اپنے ایمان کو بآواز بلند ظاہر کرتا رہا۔ایک چھوٹا سا زخم انسان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے لیکن اس شخص کا خیال کرو جس پر چاروں طرف سے پتھر پڑ رہے تھے مگر اسے صرف ایک ہی دھن تھی کہ جس امر کو وہ سیچ یقین کرتا تھا وہ اسے مرنے سے پہلے پھر ایک دفعہ اپنے برادرانِ وقت کے کانوں تک پہنچا دے۔دیگر واقعات : ایسوشی ایٹڈ پریس کا پشاور کام رستمبر کا تار جو ہندستان کے سب اخبارات میں چھپا ہے اس میں بتایا گیا ہے سنگساری سے پہلے مولوی نعمت اللہ شہید کو قید خانہ میں بھی کئی قسم کے عذاب دیئے گئے تھے۔ہندوستان کا سب سے وسیع الاشاعت انکمو انڈیل روزانہ پاؤئیر لکھتا ہے کہ یہ معاملہ معمولی نہیں بلکہ نہایت اہم ہے۔وہ اپنے تازہ ایشوع میں یہ بھی لکھتا ہے کہ امیر نے