سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 285 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 285

۲۸۵ سے خط و کتابت کریں۔چنانچہ انہوں نے ایک چٹھی وزیر خارجیہ افغانستان کولکھی اور ایک جمال پاشا تر کی مشہور جرنل کو جو سیکرٹری دعوۃ والتبلیغ کے ذاتی طور پر واقف تھے اور اس وقت افغانستان میں تھے ، ان سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی اس امر کے متعلق افغانستان کی گورنمنٹ سے سفارش کریں۔اس چٹھی کے جواب میں وزیر خارجہ افغانستان کی ایک چٹھی مئی ۱۹۲۱ء میں آئی جس میں لکھا تھا کہ احمدی اسی طرح اس ملک میں محفوظ ہیں جس طرح دوسرے و فا دار لوگ۔ان کو احمدیت کی وجہ سے کوئی تکلیف نہ دی جائے گی اور اگر کوئی احمدی ایسا ہے جسے مذہب کی وجہ سے تکلیف دی جاتی ہو تو اس کا نام اور پتہ لکھیں گورنمنٹ فوراً اس کی تکلیف کو دور کرے گی۔اس کے کچھ عرصہ بعد خوست کے علاقہ میں بعض احمدیوں کو پھر تکلیف ہوئی تو احمد یہ جماعت شملہ کی لوکل شاخ نے سفیر کا بل متعینہ ہندوستان کو اس طرف توجہ دلائی اور ان کی معرفت ایک درخواست گورنمنٹ کا بل کو بھیجی جس کا جواب مورخہ ۲۴ رمئی ۱۹۲۳ء کو سفیر کا بل کی معرفت ان کو یہ ملا کہ احمدی امن کے ساتھ گورنمنٹ کے ماتحت رہ سکتے ہیں۔ان کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا۔باقی وفادار رعایا کی طرح ان کی حفاظت کی جائے گی۔اس خط میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا کہ یہ معاملہ ہر میجسٹی امیر کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور ان کے مشورہ سے جواب لکھا گیا ہے۔شملہ کی لوکل احمدی انجمن کی درخواست میں احمدی عقائد کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا تھا اور گورنمنٹ افغانستان نہیں کہہ سکتی کہ ان کو پہلے احمدی عقائد کا علم نہ تھا۔اس طرح متواتر یقین دلانے پر کابل اور اس کے گرد کے احمدی ظاہر ہوگئے دیگر علاقوں کے لوگ پہلے کی طرح مخفی ہی رہے کیونکہ گورنمنٹ افغانستان کا تصرف علاقوں پر ایسا نہیں کہ اس کی مرضی پر پوری طرح عمل کیا جائے۔وہاں لوگ قانون اپنے ہی ہاتھ میں رکھتے ہیں اور بار ہا حکام بھی لوگوں کے ساتھ مل کر کمزوروں پر ظلم کرتے رہتے ہیں۔احمدیوں پر مصائب : ہم خوش تھے کہ افغانستان میں ہمارے لئے امن ہو گیا ہے کہ ۱۹۲۳ء کے آخر میں اطلاع ملی کہ دو احمد یوں کو افغانستان کی گورنمنٹ نے قید کر لیا ہے جن میں سے ایک کا بیٹا بھی ساتھ قید کیا گیا ہے۔ان دو میں سے ایک تو کچھ دے دلا کر اپنے بیٹے سمیت چھٹ گیا لیکن دوسرا میری قادیان سے روانگی تک قید تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس کا اب کیا حال ہے۔دوسرا جو