سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 260 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 260

۲۶۰ سٹیشن پر ملنے کو کہا تھا۔میں تو ان کے ملنے کو یہاں آیا ہوں معلوم نہیں وہ کہاں ہیں ؟ مگر چلئے ایک صاحب کا نام لے کر کہ شاید اس کے ہاں ہوں چنانچہ حضور مع رفقا اس کے مکان پر پہنچے۔حضور موٹر سے اور بعض دوست ٹرام کے ذریعہ سے ( تفصیل نہیں معلوم ) تو معلوم ہوا کہ چوہدری فتح محمد خان صاحب نہایت اطمینان کے ساتھ ڈائیٹنگ ہال میں اخبار پڑھ رہے ہیں۔حضرت کو دیکھ کر ہنس پڑے اور عذر کیا کہ میں سمجھا تھا کہ حضور کے تشریف لانے کا وقت گزر گیا ہے اور حضور اب شاید لیکچر کے وقت پر بھی نہ پہنچ سکیں گے۔آخر حضرت کے لئے جس ہوٹل میں ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا پہنچایا گیا۔حضور نے کھانا وغیرہ کھایا اور جلدی جلدی لیکچر کے واسطے تیار ہو گئے۔حضور موٹر کے ذریعہ سے اور دوسرے ساتھی ٹرام سے گئے مگر موٹر والا غلطی سے شہر سے دور ایک گرجا میں لے گیا پھر وہاں سے واپس اس جگہ تشریف لائے جہاں لیکچر ہونے والا تھا۔جب حضور پہنچے تو گر جا میں سروس ہور ہی تھی اور پادری صاحب سرمن دے رہے تھے۔انہوں نے حضور کو آتے دیکھ کر حضور کی آمد کی خوشخبری لوگوں کو دی اور کہا کہ یہ نہایت خوش قسمتی ہے کہ ایسا ایک پاک انسان آج ہم میں آیا ہے جس کے والد بزرگوار اس زمانہ کے نبی اور ریفارمر تھے اسی طرح جس طرح کہ لارڈ حضرت محمد صاحب ( ع ) اور لارڈ مسیح نبی تھے۔اور کہا کہ میں تو ان کو مانتا ہوں اور میں نے کہا ہے کہ میں ہر طرح سے امداد دینے کو تیار ہوں اور دل سے تیار ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ تمام مذاہب آپس میں مل جائیں اور اتفاق کریں اور گرجے اور مساجد ہر مذہب کے انسانوں کے لئے برابر کھلے ہوں وغیرہ وغیرہ۔ایسی تعریف کی اور ایسے رنگ میں حضور کو انٹروڈیوس کرایا کہ احمدی بھی شاید اس سے زیادہ نہ کہہ سکتا اور ان لوگوں سے کہا کہ میں آپ لوگوں سے معافی نہیں مانگتا کہ میں نے کیوں ان کو بلوایا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ بھی ان کی آمد سے ایسے ہی خوش ہیں جیسا کہ میں۔اور آخر میں اعلان کیا کہ اب ایک لیکچر مسیح کی آمد ثانی پر مولوی محمد دین صاحب کا ہوگا اور شام کو دوسری سروس کے ساتھ حضرت اقدس کا لیکچر ہو گا۔بہت لمبی چوڑی تفصیل سے تعریف اور انٹروڈیوس کرایا اور پھر اپنی سروس میں لگ گیا۔سروسوں اور عبادت سے فارغ ہو کر اس نے مولوی محمد دین صاحب کو لیکچر سنانے کی اجازت دی جو گونہ جلالی اور ساتھ ہی