سفر یورپ 1924ء — Page 259
۲۵۹ - کر کے بھی پوچھا مگر کسی نے کچھ زیادہ نہ بتایا مگر میرے دل کو تسلی نہیں ہوئی۔دل چاہتا ہے کہ زیادہ حالات اس سفر کے عرض کروں چنانچہ جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے باوجود اپنی مصروفیت کے مجھ پر توجہ کی اور ذیل کے حالات جلدی جلدی جیسا کہ ان کی عادت ہے سنائے ہیں۔چوہدری صاحب نے سنایا کہ کل لوگ اسی گاڑی پر سوار ہو گئے تھے جس کا حضور گھر سے قصد کر کے نکلے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ بظاہر کوئی صورت سوار ہونے کی نہ تھی مگر معلوم ہوتا ہے کہ ہماری گھڑیاں ایسی ٹائم کی عادی ہیں وہ کچھ آگے تھیں اس وجہ سے وقت سے پہلے ہم لوگ پہنچے اور جو دوست حضرت اقدس سے پہلے مکان سے روانہ ہوئے تھے راستہ کے کسی سٹیشن پر اُتر کر واٹرلو کی تلاش میں پھرتے تھے اور ناراض تھے کہ واٹر لو کہاں چلا گیا ہے حالانکہ اس سٹیشن پر تبدیل کر کے ان کو دوسری گاڑی سے واٹرلو جانا تھا۔آخر ایک بس والا آیا اور اس نے ان کو بتایا کہ میں واٹر لو جاتا ہوں اگر تم واٹر لو جانا چاہتے ہو تو آؤ سوار ہو جاؤ۔چنانچہ وہ دونوں بزرگ یعنی ڈاکٹر صاحب اور عرفانی صاحب اس بس میں سوار ہو کر واٹر لو پہنچے۔ٹکٹ جناب چوہدری صاحب نے خرید کر دیے اور حضور اول درجہ میں سوار ہوئے۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب حضور کے ساتھ تھے۔مضمون جو حضور نے پڑھنا تھا اس کو پڑھانا چاہتے تھے مگر چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ میں حضور کو بار بار ڈسٹرب کرتا تھا کہ حضور کچھ سیر بھی تو کر لیں کیا عجائب نظارے ہیں مگر حضور نے فرمایا۔کہ کیا واپسی پر اس راستہ سے نہیں آئیں گے؟ چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ حضور واپسی پر اسی راہ سے آویں گے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ حضور اس وقت مصروف نہ ہوں گے اور واپسی پر ضرور حضور ان سیر گاہوں کو دیکھ سکیں گے لہذا بہتر ہے کہ کچھ جاتے ہوئے دیکھ لیں اور کچھ واپسی پر دیکھا جائے گا مگر حضور ان کی خاطر گاہ گاہ سیر فرماتے اور اکثر وقت مضمون کا مطالعہ فرماتے گئے۔چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ سٹیشن پر جب ہم لوگ پہنچے تو کوئی بھی وہاں موجود نہ تھا اور نہ ہم میں سے کسی کو معلوم تھا کہ ہم نے جانا کہاں ہے؟ آخر سوچا کہ کوئی ٹیکسی لے کر چوہدری فتح محمد خان صاحب کی تلاش کریں۔اسی شش و پنج میں تھے کہ ایک صاحب انگریز صورت نے ٹوپی اتار کر السلام علیکم عرض کیا جس سے خوشی ہوئی کہ کم از کم مسلمان تو ہے۔اس سے پوچھا گیا کہ کچھ معلوم ہے کہ چوہدری فتح محمد خان صاحب کہاں ہیں۔اس نے عرض کیا کہ مجھے انہوں نے ساڑھے 10 بجے