سفر یورپ 1924ء — Page 114
حضرت کے کمرہ میں جائے۔چوہدری علی محمد صاحب کہیں ایک مرتبہ نگے سر اور ننگے پاؤں گئے تھے۔اس بات کو نوٹ کیا اور حضرت کے حضور شکائت کی۔حضرت نے بھی اس امر کو نا پسند فرمایا اور اوپر جانے سے روک دیا۔خان صاحب نے ڈاکٹر صاحب اور چوہدری علی محمد صاحب کے لئے اجازت چاہی مگر انہوں نے خوشی سے منظور نہ کیا۔دراصل جہاز میلا ہونے کا بھی بہانہ ہے۔ان کی عیاشی میں فرق آتا ہو گا۔اس وجہ سے وہ تھرڈ کلاس پنجروں کو اوپر جاتے دیکھ بھی نہیں سکتے۔نوٹس لگایا ہوا ہے کہ ہر درجہ کے لوگ اپنے اپنے احاطہ سے باہر نہ جائیں۔ڈاکٹر جہاز بھی بہت ہی خشک آدمی ہے۔میاں رحمد مین اور ڈاکٹر صاحب کو بلوا کر خواہ مخواہ ٹیکہ کر دیا ہے۔اور وں کو بھی بلوا تا تھا مگر اور کوئی نہ گیا ورنہ وہ تو سبھی کو ٹیکہ لگا دینے کے درپے تھا۔یہ جہاز بہت بڑا اور وسیع ہے مگر ہمارے مناسب حال نہیں۔اس کی پابندیاں ایسی ہیں کہ گویا قید خانہ میں ہیں۔اب ہم میں سے نہ کوئی حضرت اقدس کے پاس جا سکتا ہے نہ عام طور پر حضرت اقدس نیچے آتے ہیں کیونکہ اس امر کو بھی وہ لوگ پسند نہیں کرتے اور حقارت کرتے ہیں کہ اوپر کے درجہ کے لوگ ادنئے درجہ والوں سے یوں اختلاط اور میل جول رکھیں۔رات بھر حضرت اقدس تنہا اپنے کمرہ میں آرام فرماتے رہے۔ہمیں حضور کا پتہ نہ تھا کس حالت میں ہیں اور حضور کو ہماری خبر نہ تھی۔۱۴ / اگست ۱۹۲۴ء : چوہدری محمد شریف صاحب اور میاں رحمد بن صاحب دونوں کو پھرسی سک لس (sea sikness) ہو گئی ہے اور دوسرے احباب بھی چکروں کی وجہ سے سرنہیں اُٹھا سکتے۔نیند کا ایسا غلبہ ہے کہ کھانے کے لئے بھی نہیں اُٹھتے ، اُٹھتے ہیں تو پھر لیٹ جاتے ہیں۔صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ بھی کل سے لیٹے ہوئے ہیں اُٹھے نہیں۔سر درد کا دورہ اور چکروں کی تکلیف ہے۔اللہ کریم حافظ و ناصر اور معین و مددگار ہو آمین۔قادیان سے منشی غلام نبی صاحب کی شکایت حضرت کے حضور پہنچی ہے کہ کوئی رپورٹ الفضل کے واسطے نہیں آتی۔حضور نے حکم دیا ہے کہ سب دوست دمشق کی رپورٹ الگ الگ لکھ کر