سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 113 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 113

۱۱۳ الدین صاحب کو بھی اجازت لندن آنے کی دی اور تین بچوں کے نام بھی رکھے۔حضرت میر محمد اسحق صاحب کے بچے کا نام داؤ د احمد - بخارائی صاحب کے بچے کا نام محمد لطیف اور چوہدری علی محمد صاحب کے بچے کا نام برھان محمد تحریر فرمایا اور حضرت میر صاحبان کو مبارک باد بھی لکھی۔تحفہ کا بل بذریعہ ڈاک امیر کابل کے نام بھیجنے کی اجازت دی اور گھر کے خطوط نہ آنے پر افسوس کا اظہار فرمایا اور ان دونوں تاروں پر بھی دس پونڈ کے قریب خرچ ہو گیا۔پہلے جو تار حضرت اقدس نے لکھی تھی۔اس میں دمشق کی تبلیغ اور خدا کی تائید ونصرت اور کامیابیوں کا بھی ذکر تھا مگر افسوس کہ وہ بذیعہ تار اخراجات کی زیادتی کی وجہ سے آپ تک جلد پہنچ نہ سکا۔ہم لوگ پورٹ سعید ایسے تنگ وقت پہنچے تھے کہ کوئی دوائی حضرت اقدس کے واسطے اور نہ ہی کوئی سبزی اور نہ ہی کوئی چوزہ یا پھل وغیرہ خرید سکے جو حضور کے کام آتا۔ساتھ ہی تھرڈ کلاس پنجروں کا ٹکٹ ود آؤٹ فوڈ (with out food) تھا۔ان کے کھانے کے لیے بھی کوئی چیز نہ لے سکے اور خالی ہاتھ بمشکل جہاز میں سوار ہوئے اس وجہ سے تھر ڈ کلاس پسنجر بھو کے پیاسے تھے۔ان کے واسطے خوراک وغیرہ کے انتظام کے لئے حضور بہت ہی بے چین اور بے تاب تھے اور بار بار خان صاحب کو حکم دیتے تھے کہ جلدی کوئی انتظام کریں مگر چونکہ جہاز کے آفیسر رات بھر کام کرتے رہنے کے بعد صبح سے سوئے اور ایسے سوئے کہ چار بجے شام تک نہ اُٹھے اس وجہ سے کوئی انتظام خوراک کا ناممکن تھا۔ظہر وعصر کی نمازیں حضور نے ڈیک پر کھڑے ہو کر پڑھا ئیں۔نمازوں کے بعد کچھ خشک رسد کا انتظام ہو گیا اور ڈبل روٹی مل گئی جو دوستوں نے کھائی اور ہوش سنھبالے ورنہ کچھ رات کی بے خوابی کی وجہ سے اور کچھ بھوک کے باعث بستر سے اُٹھ بھی نہ سکتے تھے۔- شام کی نماز کی لئے حضور پھر تشریف لائے اور شام وعشاء بیٹھ کر ادا کرائیں کیونکہ سمندر میں حرکت تھی اور دوران سر اور متلی وغیرہ کا خطرہ پھر پیدا ہو چکا تھا۔نمازوں کے بعد لیٹ گئے اور ہم لوگ پاؤں دباتے رہے۔سر میں بھی تکلیف تھی اس طرح قریباً ایک گھنٹہ بعد حضور اپنے کمرہ میں تشریف لے گئے۔اس نئے جہاز میں ہمیں بہت تکلیف ہے کیونکہ جہاز والے پسند ہی نہیں کرتے کہ کوئی آدمی