سفر یورپ 1924ء — Page 115
۱۱۵ بھیجیں مگر کسی کو ہمت نہیں کہ اُٹھ کر رپورٹ لکھے۔حضرت اقدس کی تکلیف کے لئے ڈاکٹر جہاز سے مشورہ کیا گیا اور سوائے دودھ چائے یا شور با کے کوئی چیز نہ کھانے کی ہدایت کی اور تاکید کر دی ہے کہ حضور لیٹے رہیں اُٹھیں نہیں لہذا اب حضور نیچے بھی تشریف نہیں لاتے۔صبح کی نماز بھی حضور نے وہیں پڑھی۔خان صاحب کبھی کبھی حضور کی خبر گیری کے واسطے جاتے ہیں اور ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب بھی دبے پاؤں ہو کر آئے ہیں مگر حضور نے حکم دے دیا ہے کہ بہت ہی صاف کپڑے پہن کر آؤ چنا نچہ ڈاکٹر صاحب نے بالکل نئے کپڑے بدلے اور کچھ شور با اور ڈبل روٹی حضور کو کھلا آئے ہیں اور اس طرح خدام ہمرکاب کو گونہ تسلی ہوئی ہے۔اب حضور نے فرمایا ہے کہ چوہدری علی محمد کو کپڑے بدلوا کر پاؤں دبانے کو بھیج دیا جاوے۔چوہدری علی محمد صاحب بھی عملہ جہاز سے ڈرتے ہوئے جار ہے ہیں کیونکہ کل کسی افسر نے ان کو او پر جانے سے روک دیا تھا۔ہمارا جہاز انشاء اللہ ۱۶ اگست کو ۹ بجے صبح کے قریب برنڈزی پہنچے گا جہاں سے حضرت اقدس مع خدام انشاء اللہ تعالیٰ روم کو روانہ ہو جائیں گے۔مصر سے شیخ محمود احمد صاحب سوائے عربی ٹیچنگز آف اسلام کے اور کوئی کتاب نہیں لائے حالانکہ ان کو دمشق سے تار دیا گیا تھا کہ تمام عربی مطبوعہ کتب کی ایک ایک سو کاپی ساتھ لاویں مگر اُنہوں نے عذر کیا کہ دوسری کتب ابھی تک طبع ہی نہیں ہوئیں۔آج چودھویں رات کا چاند ہے۔4 بجے کے قریب سے چاند کو گہن لگنا شروع ہوا اور ہوتے ہوتے تمام چاند سیاہ ہو گیا ہے۔رات کے گیارہ بارہ بجے جا کر گہن ختم ہوا۔دو تین دوستوں یعنی سیکنڈ کلاس والوں نے نماز گہن پڑھی۔تھرڈ کلاس ڈیک پر اس وقت جہاز والوں کا گانا بجانا ہورہا تھا اس وجہ سے ہم لوگ شریک نماز نہ ہو سکے۔اوپر جانے کی اجازت نہ تھی اور ہماری جگہ پر اس قدر شور وشغب تھا کہ نماز پڑھنا مشکل تھا۔اپنی اپنی جگہ استغفار کرتے اور دعائیں مانگتے رہے۔حضرت کو ڈاکٹر جہاز نے جلاب دے دیا تھا اس کی وجہ سے دو تین دست آگئے اور چند سدے بھی نکلے ہیں۔انتڑیوں میں سوزش کا بھی خیال ہے۔حضور نے سوائے چائے کے رات بھی کچھ نہ کھایا۔کل دو پہر کو تین چار تولے شور با اور نصف کے قریب چھوٹی ڈبل روٹی کھائی تھی (یعنی