سفر یورپ 1924ء — Page 81
ΔΙ ہے کہ اس طریق سے گفتگو کر و۔سب علماء خاموش ہیں۔سب علماء اور شرفا ہمہ تن گوش ہیں اور ایک بجلی کی سی کشش ہے جو لوگوں کو اپنی طرف جذب کرتی ہے۔تین گھنٹے ہو چکے ہیں اکثر لوگ کھڑے ہیں اور سن رہے ہیں صرف چند کرسیاں ہیں باقی لوگ کھڑے ہیں۔دوسری طرف سید نا حضرت اقدس ابھی غسل سے فارغ ہوئے ہیں اور بعض علما ء خاص طور پر پرائیویٹ ملاقات کے لئے بیٹھے ہیں۔ایک مولوی صاحب سے حضرت اقدس تخلیہ میں گفتگو کر رہے ہیں۔دوسرا بزرگ شکل دروازہ پر انتظار میں بیٹھا ہے۔تیسری طرف مولویوں نے مخالفت شروع کر دی ہے۔وہ پیغام جس کا میں نے پہلے خط میں ذکر کیا ہے کہ اہلِ دمشق کے لئے حضور نے لکھا ہے اور عربی میں ترجمہ کرا کر شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے کمپوز ہوکر پروف بھی دیکھا جا چکا ہے اور پروف صحیح بھی ہو کر رات چلا گیا تھا۔آج صبح رسالہ لینے کو پریس میں گئے تو معلوم ہوا کہ اول اجازت لینی لازمی ہے پریس برانچ کے افسروں سے۔حضرت اقدس کے حضور عرض کیا گیا۔حضور نے حقی بیگ کے پاس جا کر معاملہ عرض کرنے کا حکم دیا۔حقی بیگ گورنر نے کہا اول وہ مضمون مفتی صاحب دیکھ لیں وہ اجازت دیں تب شائع ہو سکے گا۔مفتی صاحب کو بتایا گیا۔اس نے دیکھ کر کہا مضمون مذہبی ہے مگر میں اس کو دو تین دن میں پڑھ سکوں گا اور پڑھنے کے بعد فیصلہ دوں گا۔پھر گورنر حقی بیگ کے پاس عرض کیا گیا۔مفتی بھی وہیں جا پہنچا۔گورنر کے حکم سے سارا ٹریکٹ پڑھا گیا۔پڑھ کر مفتی نے کہا کہ یہ ہمارے مسلمہ عقائد کے خلاف ہے الہذا اس کی اشاعت کی میں اجازت نہیں دوں گا۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری گئے ہوئے تھے انہوں نے چند مرتبہ رڈ وکڈ بھی کی مگر انہوں نے نہ مانا۔یہ بھی کہا گیا کہ جب مذہبی آزادی ہے تو کیوں ایک مذہبی ٹریکٹ کو روکا جاتا ہے۔حقی بیگ (پاشا) نے بھی آخر کہہ دیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں جب مفتی جو اس صیغہ کا افسر ہے اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتا کچھ ہو نہیں سکتا حتی کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس صورت میں اخبارات میں بھی اس مضمون کی اشاعت ناممکن ہے۔عجیب مذہبی آزادی اور عجیب ہی طرز حکومت ہے کیوں نہ برٹش گورنمنٹ کی تعریف کی جائے۔اب حضرت اقدس نے مصری صاحب اور خان صاحب کو فرنیچ گورنر کے پاس بھیجا ہے کہ