سفر یورپ 1924ء — Page 80
۸۰ اور یہ سلسلہ انٹرویو برابر جاری رہا۔پھر سیاست کے متعلق بھی اس نے بعض سوالات کئے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت۔ہماری جماعت کی حالت- نظام - طر ز کا ر اور ہر شعبہ کا طریق عمل حضور نے مفصل طور پر اس کو لکھایا اور بتایا۔چندوں کی فراہمی۔زکوۃ کی وصولی کا انتظام - اخراجات طریق - غرباء کی امداد و غرض ہر صیغہ کو مفصلاً حضور نے بتلایا جو انہوں نے نوٹ کیا اور حضرت اقدس سے عرض کی کہ کل حضور خود کچھ حالات اپنے ذاتی لکھ کر دیں تا کہ ان کو شائع کیا جاوے۔یہ طبقہ لوگوں کا بہت ہی معقول طبقہ ہے اور بڑے بڑے آدمی ہیں۔علماء کو حقارت سے دیکھنے اور ان کی مجلس میں بیٹھ کر بات کرنا یا سننا پسند نہیں کرتے۔دراصل یہاں کے مولوی طبقہ کو بھی فکر ہوگئی ہے کہ لوگوں کا رجوع سید نا حضرت اقدس کی طرف ہو گیا ہے جس کی روکو روکنے کی فکر میں ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح سے ہمارا کام رک جائے مگر خدا کا فرمان سچ ہے کہ خدا کے کام کو کون روک سکتا ہے“ حضرت اقدس اللہ کے فضلوں کی بارش پر خوش ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس علاقہ میں سے کامیابی کی خوشبو آتی ہے اور کہ انشاء اللہ ہمیں اس علاقہ میں جلد تر بڑی جماعت مل جائے گی۔شام اور عشاء کی نمازوں کے بعد حضرت اقدس نے کھانا کھایا اور تھوڑی دیر کے واسطے حضور سیر کو تشریف لے گئے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب کے ایک واقف کا رفلاسفر جو مشہور مصنف ہیں نے چوہدری صاحب کی دعوت کی تھی وہ رات اس کے ہاں گئے اور واپس آئے۔آج صبح کو وہ پھر ملاقات کے لئے آوے گا اور امید ہے کہ بیعت ہی کرے گا۔( عبدالرحیم آفندی آف بیروت پوسٹ ماسٹر دمشق جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست ہیں اور کلاس فیلو ہیں۔القدس میں اکیلے رہتے تھے۔شاہ صاحب کی بہت ہی تعریف کرتے تھے۔۹ / اگست ۱۹۲۴ء : صبح سے علماء، طلباء امرا اور شرفا برابر آ رہے ہیں۔حافظ صاحب نیچے کے سیلون میں بیٹھے برابر تقریر کر رہے ہیں۔لوگ سوالات کرتے ہیں جواب دیئے جاتے ہیں اور آج ایسا طریق تبلیغ اللہ تعالیٰ نے حافظ صاحب کو سکھایا ہے جسے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے الہام ہی کیا