سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 82 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 82

۸۲ وہاں جا کر معاملہ پیش کریں اور اگر کوئی صورت اشاعت کی نہ ہو سکے تو ان سے کہہ دیا جائے کہ اس اشتہار پر ہمارا خرچ ہو چکا ہے اور وہ ہماری ملکیت ہے وہ ہمیں دلا یا جاوے۔ہم دمشق میں شائع نہ کریں گے باہر جا کر شائع کر دیں گے۔دیکھیں اب کیا جواب آتا ہے۔ہمارے شاہد صاحب زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست عبدالرحیم آفندی بیروتی پوسٹ ماسٹر دمشق نے بھی آج بعد نماز ظہر ساڑھے تین بجے حاضر ہو کر ملاقات کرنے کی خواہش کی اور کہا کہ میں ان عقائد کو ماننے کے لئے تیار ہوں۔اس وقت کہ گیارہ بجے ہیں ہوٹل کے اندر اس قدر لوگ بھرے ہوئے ہیں کہ ہوٹل والا رو رہا ہے۔شیخ رہا ہے اور پکارتا ہے خدا کے واسطے آپ لوگ کسی مسجد میں جائیں میرا مکان اس قدر لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔دروازہ ہوٹل کا آخر تنگ آکر بند کر دیا گیا۔لوگ دروازے پر اس کثرت سے جمع ہیں کہ دروازہ ٹوٹنے کا بھی اندیشہ ہے۔چند آدمی دروازہ پر متعین کر دیئے گئے ہیں۔علماء عظام جمع ہیں اور کہتے ہیں کہ عوام کو چھوڑ دیا جاوے اور ہم سے بات کی جاوے۔صرف دس ہی منٹ دے دیئے جاویں۔زیارت ہی کرا دی جاوے۔حضرت اقدس ایک خاص صاحب سے علیحدگی میں ملاقات کر رہے ہیں اور عوام اور نو جوان طبقہ نہیں چاہتا کہ حضرت حافظ صاحب اپنی تقریر بند کر کے اوپر چلے جائیں ان کو وہیں لطف آ رہا ہے۔غرض عجیب سماں ہے اور نہایت ہی اچھا نظارہ ہے۔حق تبلیغ آج دمشق کی سرزمین میں پورے طور پر ادا کیا جا چکا ہے۔ثمرات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔تمام دمشق میں ایک ہیجان ہے اور لوگ ہوٹل سنتر ال کی طرف ٹوٹے پڑتے ہیں۔بڑے علماء جو کبھی گھروں سے نکلنا بھی گوارا نہ کرتے تھے حضرت کے دروازہ پر جمع ہیں اور منتظر ہیں کہ کسی طرح چند ہی منٹ ان کو مل جائیں۔گفتگو نہیں تو زیارت ہی ہو جائے مگر وقت حصے میں آتا نظر نہیں آتا۔ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی سے باتیں کر رہا ہے کیونکہ ہر ایک عرب یہاں پیاسا نظر آتا ہے۔ہم میں ہر ایک جس سے کچھ بن پڑتا ہے ان پیاسوں کی سیرابی کو مہیا کرنے کی کوشش میں ہے۔سارے شام میں بڑا آدمی شیخ توفیق ایوبی دروازہ پر ہے اور درخواست کرتا ہے کہ چند منٹ کے واسطے ملاقات کا موقع دیا جائے۔اندر اس کا ایک شاگرد ہے جو باتیں کر رہا ہے مگر یہ امر بھی خلاف اخلاق ہے کہ ایک بڑے آدمی کی خاطر چھوٹے کی دل شکنی کی جاوے جب کہ پہلے وہ