سفر یورپ 1924ء — Page 49
۴۹ دار الفرح تھا اور شاید کسی وجہ سے کچھ بد نام بھی تھا۔شیخ صاحب مصری گئے اور کرایہ کا فیصلہ کیا ۶ قرش فی کس تھا۔مگر خود وہاں جا کر اس وجہ سے نہ ٹھہرے کہ وہاں عورتوں کی موجودگی بدنامی کا موجب معلوم ہوتی ہے اور حیفا چونکہ اس علاقہ میں بدنام بھی ہے اس لئے اس جگہ ہوٹلوں میں ٹھہرنے کے وقت احتیاط ہی لازم ہے۔باقی مصری صاحب، مولوی عبد الرحیم صاحب درد، چوہدری علی محمد صاحب ، میاں رحمدین اور قادیانی ہم لوگ سٹیشن کے مسافر خانہ میں ہی شب باش ہوئے۔سامان چونکہ سب ہمارے پاس تھا لہذا میاں رحمدین اور قادیانی رات کو باری باری پہرہ دیتے رہے باقی دوست جہاں آرام کی جگہ دیکھی اِدھر اُدھر کے بنچوں پر لیٹ گئے۔موسم گرم تھا رات کو پسینہ آتا تھا۔مچھر اور گتی بھی ستاتے تھے۔پولیس ہوشیار اور فرض شناس معلوم ہوتی ہے۔رات کو شہر میں وسلوں کی آوازیں بہت بھلی معلوم ہوتی تھیں جو پولیس کے پہرہ دار ایک دوسرے کو خبر دار کرنے کی غرض سے بجاتے تھے۔حیفا ایک چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے سلسلہ کے ساتھ آباد ہے اور بہت خوش وضع اور صاف مقام ہے۔لوگ اکثر اس کے نظاروں کی وجہ سے سیر و سیاحت اور بعض کیا اکثر عیاشی کی غرض سے یہاں آتے سنے جاتے ہیں۔رات چونکہ حضرت کو دو ایک دست آگئے تھے اور طبیعت بے آرام تھی بلکہ القدس سے ہی طبیعت خراب تھی رات بے آرامی میں گزری۔صبح کو سٹیشن سے مصری صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب درد حضرت کے حضور گئے مگر حضور سوئے ہوئے تھے آٹھ بجے کے بعد بیدار ہوئے اور نماز صبح کے بعد پھر سو گئے تھے۔بیداری کے بعد ناشتہ فرمایا اور شہر کی سیر کے لئے نکلے۔راستہ میں گاڑیاں مل گئیں کرایہ پر لے لیں۔حضرت کی گاڑی کا ڈرائیور ( گھوڑا گاڑی عربی گھوڑوں کی فٹن یا لینڈ و ) پڑھا لکھا بلکہ مولوی آدمی تھا۔حضرت نے اس کو تبلیغ شروع کر دی اور وہ خاصے سوال و جواب کرتا رہا۔تھوڑی دور جا کر حیفا کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی کوٹھی آ گئی حضرت صاحب نے مولوی