سفر یورپ 1924ء — Page 50
عبدالرحیم صاحب درد کو اس سے ملاقات کرنے کو بھیج دیا اور خود بازار میں سڑک کے ایک موڑ پر کھڑے رہے گا ڑیوں میں۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اچھا خلیق آدمی تھا۔محبت اور اخلاق سے پیش آیا اور حضرت کا نام سن کر کہا کہ سفر لمبا ہے راستہ میں شاید کوئی سامان نہ ملے لہذا میں کچھ فروٹ منگا تا ہوں آپ میری طرف سے ہنر ہولی نس (His Holiness) کے پیش کردیں سفر میں آرام ہو گا مگر مولوی صاحب نے شکریہ کے ساتھ معذرت کی۔مختصر سی باتیں ہوئیں۔سید نا حضرت صاحب کا عزم اور کچھ حالات اور ہندوستان کی سیاسی حالت اور مسٹر گاندھی کے حالات بھی پوچھے۔مولوی صاحب نے اس سے پوچھا کہ آیا اس کے پاس القدس کے گورنر کی کوئی چٹھی پہنچی ہے یا کہ نہیں۔اس نے کہا کہ کوئی نہیں آئی اگر آئی ہو گی تو آج اتوار کی وجہ سے دفاتر بند ہیں۔مجھے مل نہیں سکی۔چٹھی کے سوا بھی اگر کوئی خدمت میرے لائق ہو تو میں حاضر ہوں۔پھر کہا کہ حیفا بہت خوبصورت جگہ ہے ایک دو دن ٹھہر کر دیکھنا چاہیئے اور بیروت ضرور جانا چاہئیے یہاں سے موٹر جاتی ہے وغیرہ۔مولوی صاحب اس سے مل کر واپس حضرت کے حضور آ گئے اور رپورٹ پیش کی اور حضور آگے چلے۔ایک مقام پر ایک مکان کے اوپر لکھا ہوا تھا " عبد البھا عباس‘۔حضرت اقدس کو چونکہ رات ہی رپورٹ پہنچ چکی تھی کہ حیفا میں بہائی لوگ موجود ہیں اور کہ شوقی آفندی جو اس وقت بہائیوں کے ایک حصہ کا خلیفہ مانا جاتا ہے وہ عکہ سے نکل کر حیفا میں آ گیا ہے کیونکہ علکہ میں محمد علی صاحب کے مقابلہ میں جو کہ بہاء اللہ کا بھائی ہے اس کے تنازعات ہو گئے ہیں اور معاملہ طول پکڑ کر آخر شوقی صاحب کو محمد علی کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور عکہ چھوڑنا پڑا اور اس طرح وہ تمام خاندان کو لے کر حیفا میں آگیا ہے اور کہ اب وہ حیفا میں بھی موجود نہیں بلکہ سوئیٹر رلینڈ میں چلا گیا ہے۔حضرت کے حکم سے مولوی عبد الرحیم صاحب درد، صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلّمه ربہ اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب شوقی کے مکان پر گئے۔ان کے نوکر سے معلوم کیا۔نوکر نے بتایا کہ شوقی آفندی یہاں موجود نہیں سوئیٹزرلینڈ میں گیا ہوا ہے اور کہ اس کا باپ یہاں موجود ہے اس کو اطلاع کئے دیتا ہوں۔اتنے میں دو چار چھوٹے چھوٹے بچے اور ایک لڑکی پندرہ سولہ برس کی آگئے