سفر یورپ 1924ء — Page 511
۱۳ بلندی تک لے جانا ہی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہے۔اس جگہ جو لوگ راہبر کے طور پر کام کرتے ہیں بہت ہی مشاق ہوتے ہیں۔ان میں ایک مضبوط اور تیز رو آدمی ایک روپیہ مزدوری مقرر کر کے حرم کی چوٹی تک بھاگتا ہوا گیا۔چھ منٹ میں اوپر جا پہنچا جہاں وہ فٹ بال کے گیند کے برابر نظر آتا تھا۔آدھ منٹ ٹھہر کر چار چارفٹ اونچے پتھروں کی سیڑھیوں سے بے دھڑک کوند تا پھاند تا نیچے چلا آیا اور دومنٹ میں زمین پر آ گیا۔9 منٹ کا وقت مقرر کر کے گیا تھا ساڑھے آٹھ منٹ میں واپس آ گیا۔ہم میں کا مضبوط آدمی بھی بمشکل شاید آدھ گھنٹہ میں چڑھ سکتا۔- ایک بڑا بت : ابوالہول ایک بڑے پتھر کا بت ہے جس کا ناک فرانسیسی فاتح نے کلہاڑے سے کاٹ دیا تھا۔دیکھا اس کے پاس بھی عجائب خانہ قبرستان ہے جس کو دیکھ کر حیرت ہی ہوتی ہے نہ معلوم ابھی اس سرزمین کے اندر کیا کیا عجائبات پوشیدہ ہیں جس کا علم بجز خدائے علیم کے کسی کو نہیں۔پولیس کا انتظام : یہاں پولیس کا انتظام حکومت کی طرف سے خاطر خواہ ہے اور لوگ آزادی سے جاتے اور سیر کرتے ہیں ورنہ کچھ زمانہ پہلے اس مقام پر لوگ لوٹ لئے جاتے تھے۔ڈاکہ پڑتا تھا قتل ہوتے تھے۔لوگ زائرین کو غاروں اور قبروں کے اندر لے جا کر قتل کر دیتے تھے اور ان کا مال و اسباب کوٹ لیتے تھے۔اہرام مصر: سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: وو پرانے زمانے میں سب سے اونچے مینار مصر میں ہی بنا کرتے تھے اور یہ اونچے مینار اسی خیال کے ماتحت بنائے جاتے تھے کہ مصری سمجھتے تھے کہ ارواح سماویہ آسمان سے اُترتی ہیں تو بلندی پر رہنے کی وجہ سے وہ بلند جگہوں کو پسند کرتی ہیں اسی لئے وہ اپنے بزرگوں اور بادشاہوں کی قبریں بلند میناروں کی شکل میں بنایا کرتے تھے۔مگر چونکہ اس وقت تک حساب کا علم ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اس لئے وہ سیدھا اور گول مینار بنانے کی بجائے اس شکل کی عمارات بنایا کرتے تھے یعنی ان کی چوٹی تو صرف Londo airey 3r nofib۔hr چند مربع گز میں ہوتی تھی لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہوتی تھی۔بعد میں جب حساب مکمل ہوا اور بنیادوں اور سدھائی کا علم ہوا تو سیدھے گول میناروں کا رواج