سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 510 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 510

۱۲۔اہرام مصر کیا ہیں : لوگوں میں یہ روایت مشہور ہے کہ یہ عظیم الشان عمارات محض قبور ہیں جو اولاً پتھروں کو کھود کر کمرے وغیرہ بنا کر بعد میں ان کے اوپر اور کروڑوں من پتھروں کی بلند بالا عمارات بنائی گئی تھیں اور راستوں کو ایسا پیچدار بنا دیا گیا کہ کوئی اندر نہ پہنچ سکے۔پتھروں کے اوپر چونہ گج کیا گیا تھا مگر اب گورنمنٹ نے اہرام کے اندر پہنچ کر حالات معلوم کرنے کی کوشش میں راستہ تلاش کرنے کی غرض سے ان اہرام کو کئی مقامات سے توڑا پھوڑا ہے مگر جب پھر بھی راستہ نہ ملا تو اوپر سے گچ کے کام کو بالکل اتار پھینکا اور عمارات عظیم کو بالکل ننگا کر دیا۔کہتے ہیں کہ بادشاہ کو مرنے کے بعد ایسے عظیم الشان کمرہ میں دفن کرتے جو اس کی شان کے مطابق ہوتا۔اسی طرح علی قدر مراتب ہر شخص کو اس کی حیثیت اور پوزیشن کے مطابق رکھا کرتے تھے اور موت کے بعد بھی ان کے ساتھ لوازم زندگی اور تعیش کے سامان جمع کر دیئے جایا کرتے تھے۔بادشاہ کے متعلق خیال تھا کہ وہ موت کے بعد بھی اپنی رعایا کے ساتھ تعلق رکھتا تھا اور رعیت کی نگرانی اور بوقت ضرورت امدا د کرتا تھا اور روح انسانی اپنی دینوی چیزوں سے ہمیشہ محبت کرتی اور وابستہ رہتی تھی۔انہی وجوہات کی بناء پر کوشش کی جاتی تھی کہ ہر قسم کے سامان بعد الموت بھی اس کے گرد جمع کر دیئے جائیں جو رعیت کی امداد یا خود مردہ کی روح کی خوشی اور دلجوئی کا موجب بن سکیں۔یہ سامان بادشاہوں کے ساتھ چونکہ لاکھوں روپیہ کی قیمت کے رکھے جاتے تھے اس لئے ان کی حفاظت اور مردہ کی حفاظت کے لئے اوپر بہت ہی محفوظ اور مضبوط عمارت بنا کر دروازے وغیرہ بالکل بند کر دیئے جاتے تھے۔چنانچہ اب جب کہ گورنمنٹ نے وہ سامان اور زر و جواہر نکلوائے ہیں معلوم ہوا ہے کہ کس قدر قیمتی زیورات ، جو ہرات ، فرنیچر ، تابوت، ڈھانچ اور برتن و دیگر سامان وغیرہ رکھے جاتے تھے اور ان سے اس زمانہ کی صنعت اور کاریگری کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کس قدر کمال ان لوگوں کو حاصل تھا۔اہرام کی شکل : اہرام مصری سید ھے بلند بالا نہیں بنائے گئے بلکہ سیڑھیوں کی طرح درجات کے طریق پر پتھر لگائے گئے ہیں نیچے سے بہت چوڑے لمبے ہیں اور اوپر سے تنگ ہوتے جاتے ہیں۔نوکدار چوٹی نکال دی ہے اس طرح کی چوگونہ مخروطی شکل ہے۔ایک ایک پتھر دودوٹن بلکہ اس not found۔سے بھی زیادہ وزن کا ہو گا جو اینٹوں کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ایسے بڑے اور بھاری پتھروں کا اتنی