سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 512 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 512

۱۴ ہو گیا۔میں جب مصر میں گیا تھا تو میں نے بھی ان میناروں کو دیکھا تھا۔یہ اتنے بلند مینار ہیں کہ اچھا قوی اور مضبوط آدمی بھی ان پر چڑھتے چڑھتے تھک جاتا ہے۔آج بھی انجنئیر جب ان میناروں کو دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اس زمانہ میں ناقص انجنئیر نگ کے باوجود انہوں نے کتنی بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دیں۔در حقیقت یہ مینار نہیں بلکہ قبریں ہیں جو بادشاہوں کے لئے بنائی جاتی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان میناروں کے ذریعہ آسمانی ارواح ان کے بزرگوں کے نزدیک ہو جاتی ہیں۔“۔ایک با اثر صوفی کی ملاقات : شام کو مکان پر جب واپس لوٹے تو ایک با اثر سید صاحب کا ایک آدمی موجود پایا جس نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ صوفی صاحب حضور سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اجازت ہو تو انہیں لے آؤں۔حضور نے اجازت دی اور وہ صوفی صاحب کو لے آیا۔صوفی صاحب مع 9 کس مریدوں اور شاگردوں کے حاضر ہوئے اور انہوں نے نہایت ادب اور احترام اور تپاک سے ملاقات کی اور عرض کیا کہ حضور کی تشریف آوری کا اگر مجھے پہلے علم ہو جاتا تو میں پورٹ سعید تک استقبال کو حاضر ہوتا اور ہر قسم کے انتظامات کرتا۔اپنے مکان پر گو کہ میں بھی مسافر ہوں ٹھہراتا اور خدمت بجا لاتا مجھے بھی ثواب ہوتا۔حضور نے شکریہ ادا کیا۔سید نا حضرت مسیح موعود کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی عربی طبع جدید مصری کی دو جلد میں حضور نے ان کو تحفہ دیں جن کو لے کر انہوں نے چوما اور آنکھوں پر رکھا۔بہت بہت شکریہ ادا کیا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کی تصدیق کی اور شاگردوں کو اس پر گواہ بنایا۔ایک عربی قصیدہ حافظ روشن علی صاحب نے سنایا جسے سن کر وجد میں آگئے اور لفظ لفظ پر قربان اور نثار ہوتے ہیں اور حق حق کہہ کر قبول کرتے۔وفات مسیح کا اس میں ذکر تھا اس کی بھی تصدیق کی۔فارسی کے چند اشعار پڑھ کر بھی ترجمہ کیا گیا۔بہت محظوظ ہوئے اور جاتی دفعہ بہت اخلاص اور محبت سے رخصت ہوئے۔شیخ محمود احمد کومخاطب کر کے حضرت صاحب کے سامنے کہا کہ تم نے ہم سے بخل کیا اور یہ باتیں ہمیں نہیں سنائیں۔حضرت خلیفتہ امیج کو خلیفہ کے لفظ سے پکارتے اور سید نا حضرت مسیح موعودؓ کو حضرت امام کے نام سے بار بار یاد کر تے تھے۔