سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 441 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 441

۴۴۱ فرما یا رات ایک منذر دیا دیکھی ہے۔( دیکھا کہ اوپر کے جبڑے کا دائیں طرف کا دانت ہلتا ہے اللہ کریم فضل کریں اور ساتھ بھی آگے اور پیچھے بھی ہر جگہ عافیت رکھے۔قادیان سے منجھلے گھر کی بیماری کی خبریں آتی ہیں۔فرمایا نہ معلوم بیماری یا اس کی تفصیل کیوں نہیں لکھتے۔اتنا عرصہ بیماری کو ہو گیا ہے جو فکر کی بات ہے۔خدام سے ایک ایک کر کے سب سے پوچھا کہ کسی کو قادیان کے متعلق کوئی خواب آئی ہو۔خواب یاد ہو یا نہ کسی نے اتنا ہی دیکھا ہو کہ قادیان دیکھا ہے مگر سوائے دو یا تین کے کسی نے کچھ بھی نہ بتایا۔فرمایا خواب بھی دو قسم کے ہیں۔ایک طبعی دوسرے الہی۔مجھے طبعی خواب یاد نہیں کہ کبھی آیا ہوتی کہ میں نے بار ہا تجربہ کیا ہے کہ استخارہ کے بعد مجھے کبھی خواب نہیں آیا حالانکہ بعض اوقات خواہش بھی ہوتی ہے مگر نہیں آتی البتہ استخارہ کے کئی روز بعد جب اس کا خیال بھی نہ رہے خواب آ جاتے ہیں۔خلافت کے وقت بھی میں نے بہت کوشش کی مگر کوئی خواب نہ آئی۔کئی دن بعد الہام الہی ہوا - قل ما يعبؤ بكم ربي لولادعائكم - غرض يه فضل الہی کی بات ہے کہ مجھ سے خدا کا ایسا معاملہ ہے تا الہی اور رحمانی خواب کی علامت ہو۔زمانہ خلافت ثانیہ کے ایام ابتدائی کی خوابوں کا ذکر ہوتا رہا کہ ان دنوں میں کیسا انتشار روحانیت اور فیضان الہی کے نزول کا زمانہ تھا اگر اس وقت کی رؤیا لکھی اور جمع کی جاتیں تو شاید سینکٹروں صفحات کی کتاب بن جاتی چنانچہ بعض خوابوں کا ذکر بھی فرمایا۔حتی کہ بعض غیر احمدیوں کی خوابوں کا بھی تذکرہ فرمایا اور پروفیسر عطاء الرحمن صاحب کی رؤیا کو یا دفرما کر دہرایا جس میں یہ فقرہ تھا کہ ” بادشاہی را نہ شاید پیلتن اور فرمایا کہ کیا کیا عجائبات ہیں ان خوابوں میں اور کیسے کیسے علوم بھرے ہوئے ہیں اور کیوں کر ہدایات ورہنمائی درا ہبری کا ذریعہ ہوئی تھیں وہ خواہیں وغیرہ وغیرہ۔فرمایا مجھے یاد نہیں کہ میری زندگی میں کوئی اہم تغیر ہونے والا ہو یا کوئی واقعہ عظیم آ نے والا ہو اور اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے آنے سے پیشتر خواب یا الہام کے ذریعہ سے مطلع نہ کر دیا ہو۔بہائی فتنہ آیا اور بہت زور سے آیا حتی کہ خود قادیان سے بعض لوگ گھبرا اُٹھے اور ان پر گھبراہٹ اور پریشانی کے اثرات ظاہر ہونے لگے مگر میں حیران تھا کہ اس کے متعلق مجھے کوئی خواب