سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 442 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 442

نہیں ہوا۔۴۴۲ مگر اب چند روز ہوئے ہیں کہ مجھے اپنا ایک پرانا رؤیا یا د آیا جو اسی فتنہ کے متعلق تھا اور میں اس کو پہلے جب یہ رویا ہوا تھا سنا بھی چکا ہوں۔( خواب کے الفاظ میں پوری طرح نہیں پکڑ سکا خلاصہ مضمون درج کرتا ہوں۔قادیانی ) فرمایا۔میں نے دیکھا کہ ایک شور مچا ( البیت) کی چھت پر سورج اندھیرا ہوتا جاتا ہے حتی کہ بالکل اندھیرا ہو گیا۔لوگ گھبرائے پھرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کہ قیامت آ گئی۔حضرت اماں جان بھی گھبرائے ہوئے ہیں اور خصوصیت سے جس آدمی کو میں نے دیکھا وہ ہمارے شیخ عبدالرحیم صاحب ہیں۔( بھائی عبد الرحیم صاحب) جو نہایت بے تابی سے سر مارتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت آ گئی۔اندھیرا بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھا کہ باوجود یکہ عصر کا وقت تھا مگر آسمان پرستارے نظر آنے لگے۔گھبراہٹ گو مجھے بھی تھی مگر میں لوگوں کو تسلی دیتا تھا کہ نہیں قیامت ہرگز نہیں آئی کیونکہ ابھی اس کے آثار نہیں ظاہر ہوئے۔کوئی مصیبت کوئی مشکل ضرور ہے مگر قیامت ہرگز نہیں۔میں بہت سمجھاتا ہوں مگر لوگ گھبراہٹ میں ایسے بے خود ہیں کہ ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ میں کہتا کیا ہوں۔آخر (البيت) کے چھوٹے حصہ میں چلا گیا اور دعا شروع کی۔میرے دعا کرتے کرتے اُجالا شروع ہوا اندھیرا کم ہوتا گیا۔تب میں نے زور سے پکارا اور لوگوں کو کہا کہ دیکھو میں نہیں کہتا تھا کہ قیامت نہیں ہے۔( خلاصہ ) فرما یا پیغا می فتنہ بھی بہت بڑا فتنہ تھا مگر اس فتنہ بہائیہ کا کچھ عجیب ہی رنگ تھا کہ ہمارے بڑے بڑے لوگ بھی بعض حیران تھے کہ ہو کیا گیا۔وہ اپنے آپ کو تو محفوظ سمجھتے تھے مگر ان کا خیال تھا کہ شاید ان کے سوا دوسرا کوئی بھی اس کے اثر سے محفوظ نہ ہو گا۔پیغا می فتنہ میں بھی گھبراہٹ تھی مگر ان دنوں کام کا چونکہ زور تھا۔مصیبت کے ساتھ محنت بھی تھی اس وجہ سے اس کا اثر ایسا نہ معلوم ہوا تھا وغیرہ وغیرہ۔پورٹ سعید کل دو پہر کو پہنچیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔وہاں چونکہ حضرت میاں صاحب نے اُترنا ہے لہذا آج رات کو نمازوں کے بعد دوستوں نے مشورہ کیا ہے کہ تھوڑی دیر تک جہاز کی بالائی منزل پر سیکنڈ کلاس کے اوپر سے بھی اوپر بیٹھ کر جہاں کل رات بھی بعض دوستوں نے اشعار وغیرہ