سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 440 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 440

۴۴۰ کاش وہ مقام انسان کو حاصل ہو جس سے موت ہر وقت سامنے رہے اور غفلت قریب نہ پھڑ کنے پائے اور بندہ ہر وقت ہی پکا اور سچا فرمانبردار رہے۔ان کی صحت کے لئے دعا کی جائے۔خدانخواستہ یہی چوٹ اگر دل کی جانب آتی تو شاید فرش سے اٹھانا بھی کسی اور ہی رنگ کا ہو جا تا۔اللہ تعالیٰ نے رحم کیا حضور کی خدمت کے طفیل بچالیا۔۶ نومبر ۱۹۲۴ء : حضور صبح کی نماز میں تشریف نہ لا سکے۔۱۰ بجے کے بعد تشریف لائے اور دیر تک بیٹھے رہے۔پیغامی فتنہ کے ابتدائی حالات، خلافت ثانیہ کے مشکلات تغیرات اور تدریجی ترقیات اور فضل الہی اور تائیدات کا ذکر ہوتا رہا۔مختلف جماعتوں کے سابقون اور افراد کی ایمانی قوت اور بصیرت کا بھی ذکر رہا۔خصوصاً سیالکوٹ کی جماعت کے بعض احباب کی قوت فیصلہ اور سبقت ، ہمت اور جرأت کا ذکر ہوتا رہا اور حضور نے تعریف سے ان بزرگوں کا نام یا د فرمایا۔مبارک ہو ان بزرگوں کو نام ان کے خدا کی کتاب میں محفوظ ہیں اور مراتب بھی ان کے اسی کے علم میں۔خدا راضی ہو۔رات کو بخار تھا ٹیکا کیا گیا۔ناشتہ بھی حضور نے اسی جگہ کیا۔( ڈائری کے متعلق ایک خاص حکم دیا جس کی تعمیل کی جاچکی ہے ) فرمایا ہمیں بھی ایسے نقشہ جات تیار کرنے چاہئیں جن میں اسلامی قوت وشوکت، حکومت واقتدار اور عروج و زوال کے حالات دکھائے جائیں تا کہ ہماری آئندہ نسلوں کو ان کے دیکھنے سے تحریک ہوتی رہے اور ماضی و مستقبل کا نظارہ ان کے سامنے ہو کر ان میں جوش ، غیرت ، حمیت اور عزم پیدا کرے۔اسلاف کے کارنامے بزرگوں کی فتوحات ، قرون اولیٰ کی سطوت و جبروت کو دیکھیں اور موجودہ ذلت و ادبار، کمزوری اور زوال کے حالات کو دیکھ کر متاثر ہوں اور عبرت پکڑیں۔ایک وقت وہ تھا کہ یورپ تک میں اسلامی فتوحات کا ڈنکا بجتا تھا اور اب ایک وقت ہے کہ کوئی بھی حکومت مسلمانوں کی باقی نہیں جو حکومت کہلانے کی مستحق ہو وغیرہ وغیرہ۔فرمایا کہ علما کو انتظامی کاموں میں نہ لگانا چاہئے۔ضرورتا لگایا جاتا ہے تو وہ اصل کام کو چھوڑ کر اسی میں ایسے منہمک ہو جاتے ہیں کہ پھر اس کام سے نکلنا پسند نہیں کرتے۔علما کو ان کے علمی مشاغل ہی میں مصروف رکھنا بہتر ہے تاکہ نئے نئے علمی حقائق دریافت کرتے رہیں اور اپنے علوم میں ترقی کرتے رہیں وغیرہ۔